پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 10 لاکھ سے زائد غیرقانونی ویب لنکس بلاک

0
77
پی ٹی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، 10 لاکھ سے زائد غیرقانونی ویب لنکس بلاک

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے غیرقانونی، فحش اور نفرت پر مبنی آن لائن مواد کے خلاف وسیع کارروائی کرتے ہوئے 10 لاکھ سے زائد ویب لنکس بلاک کر دیے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی پی ٹی اے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود غیرقانونی ڈیجیٹل مواد کے خلاف بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 10 لاکھ 61 ہزار سے زائد ویب لنکس بند کیے گئے، جبکہ مختلف زمروں میں کارروائی کے دوران 14 لاکھ سے زیادہ لنکس کو بلاک کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق فیس بک پر 2 لاکھ 29 ہزار سے زائد لنکس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے ایک لاکھ 97 ہزار لنکس کو غیرقانونی قرار دے کر بند کر دیا گیا۔ انسٹاگرام پر 43 ہزار یو آر ایل کی جانچ کی گئی، جن میں سے 38 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔
ٹک ٹاک پر غیرقانونی مواد کے خلاف سب سے زیادہ مؤثر کارروائی سامنے آئی، جہاں ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد لنکس اور ویڈیوز کی جانچ کے بعد ایک لاکھ 63 ہزار سے زائد مواد کو بند کر دیا گیا، جو تقریباً 94 فیصد بلاکنگ شرح بنتی ہے۔
ریاست اور دفاعِ پاکستان کے خلاف مواد پر ایک لاکھ 48 ہزار سے زائد لنکس بند کیے گئے، جبکہ مذہبی نوعیت کے خلاف مواد پر ایک لاکھ 9 ہزار سے زیادہ لنکس بلاک کیے گئے۔
یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کے بعد 64 ہزار لنکس بند کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک لاکھ 12 ہزار سے زائد لنکس کا جائزہ لیا گیا، تاہم وہاں صرف 70 ہزار 800 لنکس بلاک ہو سکے، جس کے باعث بلاکنگ کی شرح دیگر پلیٹ فارمز کے مقابلے میں کم رہی۔
دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقریباً 9 لاکھ لنکس کی جانچ کی گئی، جن میں سے 8 لاکھ 91 ہزار سے زائد کو بند کر دیا گیا۔ پی ٹی اے کے مطابق توہینِ عدالت، فحاشی، اخلاقیات کے منافی مواد، مذہبی اشتعال انگیزی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز مواد کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ ہتکِ عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر کارروائی کی شرح نسبتاً کم رہی۔ پی ٹی اے کے مطابق فحاشی اور اخلاقیات کے خلاف مواد اس کریک ڈاؤن میں سرفہرست رہا۔
لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی اس رپورٹ پر آئندہ سماعت میں مزید غور کیے جانے کا امکان ہے۔

Leave a reply