پیدائش پر رونا کیوں ضروری ہے؟ سائنس نے راز کھول دیا

0
151
پیدائش پر رونا کیوں ضروری ہے؟ سائنس نے راز کھول دیا

نوزائیدہ بچے کی پیدائش کے فوراً بعد گونجنے والی پہلی چیخ والدین کے لیے جذبات اور خوشی سے بھرپور لمحہ ہوتی ہے، لیکن طبّی نقطۂ نظر سے یہ آواز محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ زندگی کے آغاز کی واضح علامت سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق پیدائش کے وقت بچے کا رونا ایک فطری اور ضروری حیاتیاتی عمل ہے، جو اسے رحمِ مادر سے باہر کی دنیا میں زندہ رہنے کے قابل بناتا ہے۔

طبی سائنس بتاتی ہے کہ نومولود کا دماغ اور اعصابی نظام ابھی مکمل طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے ہنسی یا مسکراہٹ جیسے جذبات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس رونا دماغ کے اُس بنیادی حصے سے جڑا ہوتا ہے جو حمل کے دوران ہی فعال ہو جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بچے کی زندگی کا پہلا ردِعمل رونا بنتا ہے، جبکہ مسکراہٹ وقت کے ساتھ نشوونما پاتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق پیدائش کے فوراً بعد تیز آواز میں رونا صحت مند ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کے پھیپھڑے درست طور پر کام شروع کر چکے ہیں، جسم میں آکسیجن کی فراہمی بحال ہو رہی ہے اور دل نئے ماحول سے ہم آہنگ ہو رہا ہے۔ اس عمل کے دوران پھیپھڑوں میں موجود زائد مائع بھی خارج ہوتا ہے، جو سانس لینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

نوزائیدہ بچے کے پاس اظہارِ خیال کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہوتا۔ وہ نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی اشاروں سے بات کر سکتا ہے۔ ایسے میں رونا اس کی پہلی زبان بن جاتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی ضروریات کا پیغام ماحول تک پہنچاتا ہے۔

قدرت نے رونے کے عمل کو والدین اور بچے کے درمیان ابتدائی رابطے کا ذریعہ بنایا ہے۔ چاہے بھوک ہو، بے آرامی، سردی یا توجہ کی طلب—ہر پیغام اسی آواز کے ذریعے نگہداشت کرنے والوں تک پہنچتا ہے۔ یوں رونا نہ صرف جسمانی ضرورتوں کا اظہار ہے بلکہ بچے کی بقا اور نشوونما کا بنیادی ذریعہ بھی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق رونے کا تعلق دماغ کے برین اسٹیم سے ہوتا ہے، جو پیدائش سے پہلے ہی نشوونما پا لیتا ہے۔ اس کے برعکس مسکراہٹ اور ہنسی دماغ کے اُن حصوں سے وابستہ ہیں جو جذبات، سماجی تعلقات اور پہچان کو کنٹرول کرتے ہیں، اور یہ حصے پیدائش کے بعد آہستہ آہستہ پختہ ہوتے ہیں۔

طبی تحقیق کے مطابق بچوں میں پہلی سماجی مسکراہٹ عموماً چھ سے آٹھ ہفتوں کے درمیان ظاہر ہوتی ہے، جب وہ چہروں کو پہچاننے اور آوازوں پر ردِعمل دینے لگتے ہیں۔ ہنسی عام طور پر تین سے چار ماہ کی عمر میں سنائی دیتی ہے، جب بچہ والدین کے ساتھ جذباتی طور پر زیادہ مضبوط تعلق محسوس کرنے لگتا ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ابتدائی مہینوں میں رونے کو ہمیشہ تکلیف یا غم کی علامت نہ سمجھا جائے۔ یہ بچے کی فطری سرگرمی کا حصہ ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے اور اپنے اردگرد کے ماحول سے مانوس ہوتا ہے، رونے میں کمی اور خوشی کے تاثرات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔

پیدائش کے ابتدائی مرحلے میں جسم اور دماغ کی اولین ترجیح بقا ہوتی ہے۔ مسکراہٹ اور ہنسی خوشی کے وہ اظہار ہیں جو وقت کے ساتھ، تحفظ اور جذباتی وابستگی کے احساس کے بعد سامنے آتے ہیں—اور یہی صحت مند نشوونما کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

Leave a reply