پولیس اہلکاروں کے قتل کا کیس: سپریم کورٹ نےملزم کی سزا کالعدم قرار دے دی

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے دو پولیس اہلکاروں کے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم عمر کو بری کرتے ہوئے اس کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے کہا کہ مقدمے میں مدعی کی گواہی مشکوک تھی، جس کی بنیاد پر جرم ثابت نہیں ہوتا۔
تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، جو 17 مئی 2012 کو کراچی کے علاقے موچکو میں دو پولیس اہلکاروں کے قتل سے متعلق تھا۔ واقعے کے بعد ملزمان نے اہلکاروں کی ایس ایم جی رائفلز چھین کر فرار حاصل کی۔
پولیس نے 23 مئی 2012 کو عمر اور فاضل نامی دو ملزمان کو گرفتار کیا۔ تفتیش کے دوران، پراسیکیوشن کے مطابق دونوں ملزمان نے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2018 میں دونوں کو دو دو بار سزائے موت سنائی، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے 2020 میں عمر کی سزا عمر قید میں تبدیل کر دی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم فاضل 2024 میں جیل میں انتقال کر چکا ہے۔ وکیل صفائی محمد فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی مقدمہ موقع واردات سے فرار ہو گیا تھا، اس لیے اس کی گواہی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ مدعی مقدمہ اے ایس آئی طارق نے عدالت کو بتایا کہ فرار کے دوران وہ گٹرمیں گر گیا، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ:
“جب آپ گٹرمیں گرگئےتھےتو ملزمان کوکیسےشناخت کیا؟”
عدالت نے کہا کہ صرف اعترافی بیان اور مشکوک گواہی کی بنیاد پر سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ملزم عمر کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔








