پولیس اہلکاروں پر منشیات کی مبینہ فروخت کے الزامات، وزیر داخلہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا

0
146
پولیس اہلکاروں پر منشیات کی مبینہ فروخت کے الزامات، وزیر داخلہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا

کراچی میں پولیس کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائی ایک نئے تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے 28 کروڑ روپے مالیت کی منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم بعد ازاں یہ انکشاف سامنے آیا کہ یہ منشیات مبینہ طور پر صرف 5 کروڑ روپے میں فروخت کر دی گئی۔

اس سلسلے میں وزیر داخلہ سندھ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کراچی پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کے اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے برآمد شدہ منشیات کو منشیات فروشوں کے حوالے کر دیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق سب انسپکٹر اعجاز بٹ اور کانسٹیبل رحمت پر 508 کلو چرس اور آئس منشیات کی فروخت کے الزامات ہیں۔ واقعے کے بعد وزیر داخلہ سندھ نے کارروائی کرتے ہوئے ڈی ایس پی واصف قریشی اور سب انسپکٹر اعجاز بٹ کو معطل کر دیا۔

ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو معاملے کی مکمل جانچ کرے گی۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران دیگر پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کا امکان موجود ہے۔

Leave a reply