پنجاب کے مختلف علاقوں میں دریاؤں میں سیلابی صورتحال، متعدد دیہات زیر آب

لاہور: دریائے ستلج، چناب، راوی اور سندھ سمیت ملک کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق، ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 95 ہزار 899 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی پانی کی سطح میں اضافے کے باعث کئی دیہات زیر آب آ چکے ہیں، جس سے مکانات اور زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بورے والا کے علاقے ساہوکا اور ملحقہ آبادیاں بھی سیلابی پانی میں گھر چکی ہیں۔ ساہوکا-چشتیاں روڈ میں شگاف پڑنے سے سیکڑوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
دریائے چناب میں ممکنہ سیلابی ریلے کے پیش نظر مساجد سے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، بھارت کی جانب سے ساڑھے تین لاکھ کیوسک پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے، جس سے چناب میں پانی کی سطح ایک دن میں دو گنا بڑھ گئی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔
ہیڈ سلیمانکی اور دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 82 ہزار 140 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادھر دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 17 ہزار 490 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب جاری ہے جبکہ تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور گڈو بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔
متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔









