پنجاب میں نجی لیبارٹریوں اور صحت کے اداروں کے منافع پر لاہور ہائی کورٹ کی حد مقرر

0
133
پنجاب میں نجی لیبارٹریوں اور صحت کے اداروں کے منافع پر لاہور ہائی کورٹ کی حد مقرر

لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پنجاب میں کام کرنے والی تشخیصی لیبارٹریاں اور نجی صحت کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اپنی لاگت سے 20 فیصد سے زائد منافع وصول نہیں کرسکیں گے۔

جسٹس راحیل کامران کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے مطابق، ان اداروں کی جانب سے خدمات کی قیمتوں کی حتمی منظوری کا اختیار پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو حاصل ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ اختیار کمیشن کو پہلے ہی پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ایکٹ 2010 کے تحت حاصل ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صحت کی خدمات کو تجارتی اشیاء کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ ان کا براہ راست تعلق شہریوں کے زندگی اور صحت کے بنیادی حق سے ہے۔ عدالت کے مطابق، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحت کے نجی اداروں کی نگرانی اس انداز میں کرے کہ عوام کو ناجائز منافع خوری کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صحت کی خدمات کی قیمت کوئی بھی ادارہ خود طے نہیں کرسکتا بلکہ یہ تعین سرٹیفائیڈ چارٹرڈ یا کاسٹ اکاؤنٹینسی فرم کے ذریعے کیا جائے گا۔ بعد ازاں یہ قیمت پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو پیش کی جائے گی جو اس کی حتمی منظوری دے گا۔

فیصلے میں عدالت نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ کے مفاد میں قیمتوں کی نگرانی اور منافع کی حد مقرر کرنا ریاست اور ہیلتھ کیئر کمیشن کا آئینی اختیار ہے۔

Leave a reply