پنجاب میں سکھ خاتون کی مثال: مسلمانوں کے لیے ذاتی زمین پر مسجد کی تعمیر

0
106
پنجاب میں سکھ خاتون کی مثال: مسلمانوں کے لیے ذاتی زمین پر مسجد کی تعمیر

پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب کے گاؤں جکھوالی میں 75 سالہ سکھ خاتون نے اپنے گاؤں کے مسلمانوں کے لیے ذاتی زمین عطیہ کرکے مسجد کی تعمیر ممکن بنا دی ہے۔ گاؤں کے سکھ اور ہندو خاندانوں نے بھی مالی تعاون فراہم کیا ہے۔
گاؤں میں پہلے سے گوردوارہ اور مندر موجود تھے، تاہم مسلمان عبادت کے لیے قریبی دیہات کا رخ کرتے تھے۔ جکھوالی میں سکھ آبادی زیادہ ہے، لیکن ہندو اور مسلمان خاندان بھی نسلوں سے یہاں آباد ہیں۔ بی بی راجندر کور نے پانچ مرلہ زمین مسجد کے لیے دینے کا فیصلہ کیا تاکہ مسلمان بھائی بھی گاؤں میں عبادت کر سکیں۔
راجندر کور نے کہا، “ہمارے مسلمان بھائیوں کے لیے مسجد نہ تھی، اس لیے میں نے یہ زمین دی۔ ہمیں خوشی ہے کہ وہ خوش ہوں گے۔” ان کے پوتے ستم سنگھ نے بتایا کہ گاؤں کے لوگ ہر تہوار اور تقریب میں سب مل کر حصہ لیتے ہیں۔
گاؤں کے سرپنچ مونو سنگھ کے مطابق، سرکاری زمین مذہبی عمارت کے لیے مختص نہیں کی جا سکتی تھی، اس لیے ذاتی زمین عطیہ کرنے کا راستہ اختیار کیا گیا۔ مسجد کمیٹی کے سربراہ کالا خان نے بتایا کہ تعمیر کے لیے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے تعاون کیا ہے اور اب تک تقریباً ساڑھے تین لاکھ بھارتی روپے جمع ہو چکے ہیں۔ کام جاری ہے اور امید ہے کہ فروری تک مسجد مکمل ہو جائے گی۔
مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ مسجد کی تعمیر نہ صرف عبادت کی ضرورت پوری کرے گی بلکہ گاؤں میں پہلے سے موجود مذہبی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنائے گی۔

Leave a reply