
لاہور: پنجاب حکومت نے 9 مئی کیسز کے لیے تعینات کئی اسپیشل پراسیکیوٹرز کی تقرریاں واپس لینے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کی جانب سے ناقص کارکردگی کی نشاندہی اور کابینہ میں پیش کی گئی رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق متعدد پراسیکیوٹرز کی عدالت میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ مثال کے طور پر، راؤ عبدالجبار 62 سماعتوں میں صرف 2 بار پیش ہوئے جبکہ شاہد شوکت 99 سماعتوں میں صرف 2 بار عدالت میں حاضر ہوئے۔ اسی طرح دیگر اسپیشل پراسیکیوٹرز کی کارکردگی بھی غیر تسلی بخش رہی۔
کابینہ نے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی سفارش پر ناقص کارکردگی والے اسپیشل پراسیکیوٹرز کی خدمات ختم کرنے کی منظوری دی، جس میں سرور روڈ لاہور کے حساس مقدمے میں تعینات پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ کی تقرری بھی شامل ہے۔









