پتنگ، ڈور، خوراک اور ٹرانسپورٹ: بسنت نے معیشت کو نئی جان دے دی

0
45
پتنگ، ڈور، خوراک اور ٹرانسپورٹ: بسنت نے معیشت کو نئی جان دے دی

لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس کے بعد شہر بھر میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں۔ دفاتر، اسکول اور کالجز دوبارہ کھل گئے ہیں، تاہم تعلیمی اداروں میں آنے والے طلبہ و طالبات کے ذہنوں میں بسنت کی رنگا رنگ سرگرمیوں کی یادیں اب بھی تازہ ہیں۔
تین دن تک لاہور بھر میں پتنگ بازی، موسیقی، میلوں اور دعوتوں کا سماں رہا۔ مختلف ذرائع کے مطابق بسنت کے دوران شہر میں چار سے چھ ارب روپے تک کا کاروبار ہوا، جس میں پتنگ اور ڈور، کھانے پینے کی اشیا اور ٹرانسپورٹ نمایاں شعبے رہے۔
صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت سے دو ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوئی، جبکہ باربی کیو اور دعوتوں کے باعث پولٹری انڈسٹری کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچا۔ فاسٹ فوڈ اور مٹھائیوں کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ دیگر شہروں سے شہریوں کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی خاصا متحرک رہا۔
بسنت کی تقریبات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سیاسی و سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مہمان بھی ان سرگرمیوں کا حصہ بنے۔ تاریخی دہلی گیٹ، لبرٹی چوک اور دیگر علاقوں میں موسیقی اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوئے، جہاں شہریوں نے بھرپور انداز میں جشن منایا۔
ادھر وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں بسنت کے انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تین دن کے دوران لاہور میں نو لاکھ سے زائد گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرکاری ٹرانسپورٹ پر تقریباً چودہ لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔ وزیراعلیٰ نے مجموعی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے تعاون کو سراہا اور واضح کیا کہ فیسٹیول کے بعد پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔
بسنت کی خوشیوں کے ساتھ چند افسوسناک واقعات بھی پیش آئے۔ لاہور میں پتنگ بازی کے دوران مختلف حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، جس پر شہریوں اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یوں لاہور میں بسنت کا تہوار اختتام پذیر ہوا، جس نے ایک جانب شہر کو ثقافتی رونقوں اور معاشی سرگرمیوں سے بھر دیا، تو دوسری جانب بعض المناک واقعات نے خوشیوں کو غم میں بھی بدل دیا۔

Leave a reply