پاک افغان سرحدی کشیدگی میں شدت،تمام بارڈرکراسنگ پوائنٹس بند

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں حالیہ اضافے کے بعد پاکستان نے طورخم، چمن اور دیگر اہم سرحدی راستے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہفتہ کی رات افغان فورسز نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی، جس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے افغان چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کا تبادلہ اتوار کی صبح تک جاری رہا، تاہم بیشتر علاقوں میں بعد ازاں صورت حال قابو میں آ گئی۔ البتہ کرم ایجنسی کے کچھ سرحدی مقامات پر وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
سیکیورٹی وجوہات کے پیش نظر پاکستان نے طورخم اور چمن کے ساتھ ساتھ خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان کراسنگ پوائنٹس کو بھی بند کر دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق تمام تجارتی اور پیدل آمد و رفت معطل کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2,600 کلومیٹر طویل سرحد واقع ہے، جسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ اور سرحدی جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔








