
پاکستان انسٹیٹیویٹ آف پیس اسٹڈیز (PIPS) نے اپنی سالانہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 699 دہشتگرد حملے پیش آئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں 1034 افراد جان سے گئے، جبکہ ہلاکتوں کی شرح میں 21 فیصد اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق دہشتگردی کے واقعات میں 1366 افراد زخمی بھی ہوئے، جس سے انسانی جانوں کے نقصان میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ نشانہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بنے۔
تفصیلات کے مطابق حملوں میں 437 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جن میں 174 پولیس اہلکار، 122 فوجی جوان اور 107 فرنٹیئر کور کے اہلکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دہشتگرد حملوں میں 354 عام شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں اور خودکش حملوں کے دوران 243 دہشتگرد مارے گئے۔ مجموعی طور پر 454 حملے شدت پسند تنظیموں کی جانب سے کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
PIPS کی رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادی گروہوں کو دہشتگردی کا بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی، حافظ گل بہادر گروپ، لشکرِ اسلام اور داعش خراسان 2025 کے دوران سرگرم رہے، جن کے حملوں میں 679 افراد جاں بحق اور 881 زخمی ہوئے۔









