پاکستان میں مردوں کی گرومنگ کا بڑھتا ہوا رجحان، چاند رات پر سیلونز میں رش میں اضافہ

0
85
پاکستان میں مردوں کی گرومنگ کا بڑھتا ہوا رجحان، چاند رات پر سیلونز میں رش میں اضافہ

چاند رات اور عید کے موقع پر جہاں ایک طرف نئے کپڑوں اور جوتوں کی خریداری میں اضافہ ہوتا ہے، وہیں اب مردوں کی گرومنگ بھی تہوار کی تیاریوں کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ نوجوان بڑی تعداد میں عید سے پہلے اپنی شخصیت کو بہتر اور پُرکشش بنانے کے لیے سیلونز اور باربر شاپس کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث مختلف شہروں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔
ملک کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے پوش علاقوں میں جدید مردانہ سیلونز کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں رات گئے تک سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہاں صرف بال کٹوانے تک محدود نہیں رہا گیا بلکہ مکمل گرومنگ سیشنز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اب فیشل، داڑھی کی اسٹائلنگ، ہیئر اسپا، مینی کیور اور پیڈیکیور جیسی سہولیات بھی عام ہوتی جا رہی ہیں۔ کئی افراد عید سے قبل پیشگی اپائنٹمنٹ لے کر آتے ہیں تاکہ رش سے بچ سکیں اور آرام سے اپنی تیاری مکمل کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق مردوں میں ذاتی دیکھ بھال اور اسکن کیئر کے حوالے سے شعور میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نوجوان اب روایتی صابن کے بجائے فیس واش، سن اسکرین، بیئرڈ آئل اور مختلف اسٹائلنگ مصنوعات کو روزمرہ معمول کا حصہ بنا رہے ہیں۔
عید کے دنوں میں یہ رجحان مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ تقریبات اور خاندانی ملاقاتوں میں بہتر اور صاف ستھری ظاہری شکل کے ساتھ نظر آئے۔
دوسری جانب چاند رات کے موقع پر مردانہ گرومنگ مصنوعات کی فروخت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ مقامی کمپنیاں فیس واش، چارکول ماسک اور داڑھی کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی مصنوعات متعارف کروا رہی ہیں، جبکہ آن لائن پلیٹ فارمز پر گرومنگ کٹس کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔
سوشل میڈیا اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر انفلوئنسرز مردوں کو اسکن کیئر اور گرومنگ کے بارے میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں اپنی دیکھ بھال کے حوالے سے دلچسپی مزید بڑھ رہی ہے۔
اگرچہ معاشرے میں کچھ لوگ اب بھی مردوں کی گرومنگ کو روایتی سوچ سے دیکھتے ہیں، تاہم نئی نسل اس تصور کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خود کو صاف ستھرا اور بہتر انداز میں پیش کرنا اعتماد میں اضافہ کرتا ہے، اسی لیے یہ رجحان مقبول ہو رہا ہے۔

Leave a reply