پاکستان میں اسرائیلی اسپائے ویئر ’پریڈیٹر‘ کے استعمال کی رپورٹ سامنے آگئی

0
92
پاکستان میں اسرائیلی اسپائے ویئر ’پریڈیٹر‘ کے استعمال کی رپورٹ سامنے آگئی

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک نئی تحقیق میں پاکستان میں اسرائیل کے تیار کردہ خطرناک اسپائے ویئر ’پریڈیٹر‘ کے استعمال کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ اسپائے ویئر اسرائیلی کمپنی ’انٹیلیکسہ‘ نے تیار کیا ہے، حالانکہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان کوئی سرکاری سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

تحقیق کے مطابق، بلوچستان کے ایک انسانی حقوق کے وکیل نے 2025 کی گرمیوں میں واٹس ایپ پر ایک مشکوک لنک وصول کرنے کے بعد ایمنسٹی سے رابطہ کیا۔ ایمنسٹی کی سکیورٹی ٹیم نے لنک کی جانچ کی تو یہ معلوم ہوا کہ یہ ’پریڈیٹر‘ اسپائے ویئر کے ذریعے فون ہیک کرنے کی کوشش تھی۔ یہ پاکستان میں اس قسم کا پہلا رپورٹ شدہ کیس ہے۔

پریڈیٹر اسپائے ویئر ون کلک تکنیک استعمال کرتا ہے، یعنی صارف کو صرف لنک پر کلک کرنا ہوتا ہے اور اسپائے ویئر فون میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ فون کے براؤزر کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر موبائل کے تمام ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتا ہے، جس میں میسجز، کال لاگز، لوکیشن، تصاویر، آڈیو ریکارڈنگز اور پاس ورڈز شامل ہیں۔ اسپائے ویئر فون کے مائیک کو بھی خاموشی سے آن کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسپائے ویئر سے حاصل کی گئی معلومات پہلے مختلف سرورز سے گزرتی ہیں تاکہ آپریٹر کی شناخت چھپی رہے، اور پھر اصل سرور پر جمع کی جاتی ہیں۔

انٹیلیکسہ کے بارے میں معلومات کمپنی کے لیک ہونے والے اندرونی دستاویزات اور تربیتی مواد سے سامنے آئیں۔ اس تحقیق میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ساتھ یونان کی ’انسائیڈ اسٹوری‘، اسرائیل کے اخبار ’ہاریٹز‘ اور سوئٹزرلینڈ کی ’ڈبلیو اے وی ریسرچ کلیکٹو‘ بھی شامل تھے۔

گذشتہ سال گوگل نے بھی دنیا بھر کے صارفین کو پریڈیٹر اسپائے ویئر سے متعلق وارننگز بھیجی تھیں، جن میں پاکستان کے صارفین بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انٹیلیکسہ ’الہٰ دین‘ نامی جدید اسپائے ویئر تیار کر چکی ہے، جو زیرو کلک تکنیک کے ذریعے موبائل فون کو بغیر کسی لنک پر کلک کیے ہیک کر سکتا ہے۔ ایمنسٹی نے کمپنی سے تفصیلی سوالات کیے مگر انٹیلیکسہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ پریڈیٹر اسپائے ویئر دنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذریعہ رہا ہے اور اب اس کے آثار پاکستان میں بھی نظر آ رہے ہیں۔

Leave a reply