
پاکستان نے اپنے حفاظتی ویکسین پروگرام (ای پی آئی) میں شامل ویکسینز کی مقامی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ویکسین کی فراہمی میں حائل مشکلات اور خطے میں موجود کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
یہ بات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات کے اجلاس میں سامنے آئی، جہاں وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو ویکسین کی خریداری، درپیش چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔
وزیر صحت کے مطابق، ایک سعودی وفد 28 جنوری کو پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ مشترکہ ویکسین تیاری کے منصوبے کو حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ماضی میں زیادہ تر ویکسین بھارتی کمپنیوں سے حاصل کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ سیاسی کشیدگی کے بعد بھارتی مینوفیکچررز پاکستان کو سپلائی فراہم نہیں کر رہے، جس سے ویکسین کی دستیابی متاثر ہوئی۔
سید مصطفیٰ کمال نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان سالانہ تقریباً 350 سے 400 ملین ڈالر مالیت کی ویکسین خریدتا ہے، جس میں سے 51 فیصد ملکی وسائل سے پورے کیے جاتے ہیں جبکہ باقی رقم عالمی ادارے فراہم کرتے ہیں جن میں گیوی، یونیسیف، عالمی ادارہ صحت، گیٹس فاؤنڈیشن اور روٹری انٹرنیشنل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالی معاونت 2030 تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان کو اپنے حفاظتی ویکسین پروگرام کے لیے مکمل طور پر خود مالی وسائل مہیا کرنے ہوں گے۔ اس حوالے سے حکومت نے نیشنل ویکسین پالیسی وزیر اعظم کو ارسال کر دی ہے، جس میں نیشنل ویکسین الائنس قائم کرنے اور مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں ویکسین کی پیکجنگ اور فِنشنگ پاکستان میں کی جائے گی، اور بعد ازاں مرحلہ وار مکمل مقامی تیاری کی طرف پیش رفت کی جائے گی۔ پاکستان کو سالانہ تقریباً 140 ملین ای پی آئی ویکسین ڈوزز کی ضرورت ہے۔









