
ٹیلی کام کمپنیوں کو 94 کروڑ نقصان
ہاٹ لائن نیوز : ملک بھر میں انتخابات کے دوران اور بعد میں سوشل میڈیا سروسز اور ٹیلی کام کمپنیوں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک دن انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے ٹیلی کام کمپنیوں کو 94 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس حوالے سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔
انٹرنیٹ بند ہونےکیوجہ قومی خزانےپر 33 کروڑ روپے کا بوجھ بھی پڑا ہے جب کہ آن لائن فوڈانڈسٹری کا 75 فی صد حصہ بھی متاثر ہوا ہے اور اسے تقریباً 15 کروڑ روپے کا نقصان ہونے والا ہے۔
انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے آن لائن کیب سروس کی بکنگ میں 97 فیصد کمی آئی ہے۔
اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی تو چیف جسٹس عقیل احمد عباسی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی اے حکام سے سوال کیا کہ انٹرنیٹ بند کرکے دنیا میں اپنا تماشا کیوں بنا رہے ہیں، فوری انٹرنیٹ کھولیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ نہیں چلے گا، بہت ہو گیا تماشا۔








