ٹماٹر کی قیمت آسمان پر، شہری پریشان — قلت کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

پاکستان میں ٹماٹر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بڑے شہروں میں یہ 400 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے عام شہری کے لیے روزمرہ کھانوں میں ٹماٹر کا استعمال مشکل بنا دیا ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق اس مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ خیبر پختونخوا کے علاقے لوئر دیر کی وادی تالاش میں ٹماٹر کی فصل پر حملہ آور ہونے والا ٹماٹو ییلو لیف کرل وائرس ہے، جو سفید مکھیوں کے ذریعے پھیلتا ہے اور پودوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ اس وائرس کے نتیجے میں صرف لوئر دیر میں 350 ایکڑ سے زائد رقبے پر کھڑی فصل متاثر ہوئی، جس سے ٹماٹر کی رسد آدھی سے بھی کم رہ گئی۔
مزید برآں، حالیہ بارشوں اور سیلاب نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث ٹماٹر کی پیداواری رفتار کم ہو گئی۔ افغانستان، جہاں سے پاکستان کو اس وقت بڑی مقدار میں ٹماٹر درآمد کیے جاتے ہیں، وہاں بھی موسمی حالات نے فصل کو متاثر کیا ہے، اور مقامی قیمتیں 60 سے بڑھ کر 100 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی اور بارڈر کی بندش نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ کئی ٹماٹر سے بھرے ٹرک سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں، جہاں سبزی خراب ہو رہی ہے، اور ملک میں سپلائی مزید کم ہو گئی ہے۔
منڈی ذرائع کے مطابق، لاہور کی بدامی باغ مارکیٹ میں روزانہ 30 ٹرک ٹماٹر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں صرف 15 سے 20 ٹرک ہی پہنچ پا رہے ہیں۔ طلب و رسد میں اس فرق نے قیمتوں کو بے قابو کر دیا ہے۔
عام طور پر اکتوبر کے اختتام تک سندھ کے علاقوں سے ٹماٹر کی نئی فصل مارکیٹ میں آ جاتی ہے، لیکن اس سال بارشوں کی زیادتی اور زمین میں پانی کھڑے ہونے کی وجہ سے فصل کی تیاری میں تاخیر ہوئی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ 10 سے 15 روز میں نئی فصل مارکیٹ میں آنے کی امید ہے۔
دوسری جانب، سرکاری نرخ نامے قیمتیں قابو میں رکھنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ مختلف شہروں میں 280 روپے فی کلو کا سرکاری ریٹ مقرر ہے، لیکن دکاندار اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں، جس کا جواز وہ خریداری لاگت بتاتے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موسم بہتر رہا، بارڈر کھلا اور سندھ سے نئی فصل وقت پر مارکیٹ میں پہنچ گئی، تو آئندہ چند ہفتوں میں ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ فی الحال، شہریوں کو مہنگائی کے اس جھٹکے کو برداشت کرنا ہو گا۔









