وہ جھیل جو جانداروں کو پتھر بنا دیتی ہے ، تنزانیہ کی خوفناک جھیل ناٹرون

0
59
وہ جھیل جو جانداروں کو پتھر بنا دیتی ہے ، تنزانیہ کی خوفناک جھیل ناٹرون

افریقہ کے ملک تنزانیہ کے شمالی حصے میں واقع جھیل ناٹرون دنیا کی ان چند جھیلوں میں شمار ہوتی ہے جو بیک وقت خوف اور حیرت کا باعث بنتی ہیں۔ یہ جھیل اپنے غیر معمولی سرخی مائل رنگ اور انتہائی الکلائن پانی کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کر چکی ہے۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق جھیل ناٹرون کی تشکیل تقریباً پندرہ لاکھ سال قبل آتش فشانی سرگرمیوں اور زمینی حرکات کے نتیجے میں ہوئی۔ قریبی آتش فشاں پہاڑوں سے خارج ہونے والے معدنیات جھیل میں شامل ہو کر اس کے پانی کو شدید الکلائن بناتے ہیں۔ پانی میں سوڈیم کاربونیٹ اور دیگر نمکیات کی زیادہ مقدار اسے بیشتر جانداروں کے لیے خطرناک بنا دیتی ہے۔
یہ جھیل اس وجہ سے بھی مشہور ہے کہ اس کا پانی مردہ جانوروں کے جسم کو محفوظ کر دیتا ہے۔ پانی میں موجود نمکیات جانوروں کے جسم سے نمی جذب کر لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں لاشیں سخت اور پتھر جیسی ہو جاتی ہیں۔ اسی خصوصیت کو فوٹوگرافر نک برانڈٹ نے اپنی تصاویر میں نمایاں کیا، جن میں جھیل کے کنارے مردہ پرندے اور جانور مجسموں کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جھیل کا الکلائن پانی جلد اور آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، تاہم یہی کیمیائی خصوصیات لاشوں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے قدیم زمانے میں بعض معدنیات کو لاشوں کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس خطرناک ماحول کے باوجود جھیل ناٹرون زندگی سے خالی نہیں۔ یہاں مخصوص اقسام کی الجی اور خردبینی جاندار پائے جاتے ہیں جو نمکیات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی الجی جھیل کو سرخ رنگ دیتی ہیں اور فلیمنگو پرندوں کی بنیادی خوراک بھی ہیں۔
جھیل ناٹرون فلیمنگو کی افزائشِ نسل کے لیے ایک اہم مقام سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ شدید الکلائن ماحول میں شکاری جانور داخل نہیں ہو پاتے، اس لیے فلیمنگو یہاں محفوظ رہتے ہیں۔ افزائش کے موسم میں لاکھوں فلیمنگو جھیل کے گرد جمع ہو کر اس علاقے کو گلابی اور سرخ رنگوں میں بدل دیتے ہیں۔
جھیل کے اطراف کے علاقوں میں دیگر جنگلی جانور جیسے وحشی بیسٹ، شتر مرغ اور مختلف آبی پرندے بھی پائے جاتے ہیں، تاہم وہ زیادہ تر نسبتاً محفوظ اور تازہ پانی والے حصوں تک محدود رہتے ہیں۔
جھیل ناٹرون قدرت کی ایک نادر تخلیق ہے جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ زمین پر زندگی انتہائی سخت حالات میں بھی راستہ بنا لیتی ہے، اور یہی تضاد اسے دنیا کی منفرد ترین جھیلوں میں شامل کرتا ہے۔

Leave a reply