ورزش کے باوجود وزن کم نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ ماہرین کی اہم رہنمائی

0
31
ورزش کے باوجود وزن کم نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ ماہرین کی اہم رہنمائی

اگر آپ باقاعدگی سے جم جاتے ہیں، یوگا یا کسی بھی قسم کی ورزش کو اپنی روٹین کا حصہ بنا چکے ہیں، لیکن وزن کرنے والی مشین پر ہندسہ کم ہونے کے بجائے وہی رہتا ہے، تو اس کی وجہ صرف ورزش کی کمی نہیں ہو سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن میں کمی ایک ہمہ جہتی عمل ہے، جس میں صرف جسمانی سرگرمی ہی نہیں بلکہ روزمرہ طرزِ زندگی بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
عام تاثر یہ ہے کہ روزانہ ورزش کرنا ہی وزن گھٹانے کے لیے کافی ہے، مگر حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم ورزش کے دوران جلنے والی توانائی کی تلافی دن کے باقی اوقات میں کم حرکت کے ذریعے کر لیتا ہے۔ اس لیے اگر باقی دن زیادہ تر بیٹھ کر گزارا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
فٹنس ماہرین کا مشورہ ہے کہ محض کارڈیو پر انحصار کرنے کے بجائے اسٹرینتھ ٹریننگ کو بھی معمول میں شامل کیا جائے۔ پٹھوں کی مضبوطی میٹابولزم کو تیز کرتی ہے، جس سے جسم آرام کے دوران بھی زیادہ کیلوریز استعمال کرتا ہے۔
متوازن غذا وزن کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، تاہم ہر صحت بخش غذا کم کیلوریز والی نہیں ہوتی۔ گری دار میوے، ایواکاڈو، دیسی گھی، اسموودیز اور خشک میوہ جات غذائیت سے بھرپور ضرور ہیں، لیکن ان کا زیادہ استعمال وزن میں کمی کی رفتار کو سست کر سکتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ خوراک کے معیار کے ساتھ ساتھ اس کی مقدار پر بھی توجہ دی جائے۔ سبزیوں، پروٹین اور ثابت اناج کو ترجیح دی جائے جبکہ چینی، سفید آٹا اور زیادہ تیل والی اشیاء کم کی جائیں۔
دن بھر تھوڑا تھوڑا کھانا اور میٹھے مشروبات کا استعمال بھی ایک بڑی وجہ بن سکتا ہے۔ جوس، سافٹ ڈرنکس اور بار بار اسنیکس لینے سے جسم کو ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرنے کا موقع کم ملتا ہے، جس سے وزن کم ہونے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
پروٹین نہ صرف پٹھوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ بھوک کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر کھانے میں مناسب مقدار میں پروٹین شامل کرنا، جیسے انڈے، دودھ، دالیں، مچھلی یا گوشت، وزن کم کرنے کے عمل کو مؤثر بنا سکتا ہے۔
ایک گھنٹے کی ورزش پورے دن کی غیر فعالیت کو ختم نہیں کر سکتی۔ سیڑھیاں استعمال کرنا، وقفے وقفے سے کھڑے ہونا، مختصر چہل قدمی اور ہلکی پھلکی اسٹریچنگ جیسی عادات مجموعی کیلوریز کے خرچ میں اضافہ کرتی ہیں۔
نیند کی کمی ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتی ہے، جس سے بھوک بڑھ سکتی ہے اور میٹھی یا چکنائی والی غذا کی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ذہنی دباؤ جسم میں کورٹیسول کی مقدار بڑھاتا ہے، جو خاص طور پر پیٹ کے گرد چربی جمع ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔
زیادہ ورزش کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا۔ جسم کو بحالی کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ مناسب ریکوری نہ ملنے سے تھکن، ہارمونل مسائل اور چوٹوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو وزن کم ہونے کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن ورزش پروگرام، بہتر نیند، مناسب غذا، ذہنی سکون اور دن بھر کی سرگرمی — یہی وہ عوامل ہیں جو صحت مند اور پائیدار وزن میں کمی کو یقینی بناتے ہیں۔ اگر تمام تر کوششوں کے باوجود وزن کم نہیں ہو رہا تو اپنی روزمرہ عادات کا جائزہ لینا ہی کامیابی کی کنجی ہو سکتا ہے۔

Leave a reply