واٹس ایپ فائل ڈاؤن لوڈ کرتے ہی اکاؤنٹ خالی: سائبرفراڈکانیاطریقہ بے نقاب

0
30
واٹس ایپ فائل ڈاؤن لوڈ کرتے ہی اکاؤنٹ خالی: سائبرفراڈکانیاطریقہ بے نقاب

ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ جہاں بینکاری اور آن لائن خریداری آسان ہو گئی ہے، وہیں سائبر جرائم پیشہ عناصر بھی نت نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ دہلی میں پیش آنے والا ایک حالیہ واقعہ اس خطرے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے، جہاں ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ مبینہ طور پر واٹس ایپ پر موصول ہونے والی فائل انسٹال کرنے کے بعد مالی دھوکہ دہی کا شکار ہو گئیں۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاتون کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے شخص نے خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے ان کے کریڈٹ کارڈ کی حد بڑھانے کی پیشکش کی۔ گفتگو پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی تاکہ اعتماد حاصل کیا جا سکے۔ بعد ازاں واٹس ایپ کے ذریعے ایک فائل بھیجی گئی، جسے بینک کی اپڈیٹ شدہ ایپلیکیشن قرار دیا گیا۔
جیسے ہی مذکورہ فائل موبائل فون میں انسٹال کی گئی، کچھ ہی دیر میں کریڈٹ کارڈ سے تقریباً 76 ہزار روپے کی آن لائن خریداری کر لی گئی۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ واردات کسی منظم سائبر گروہ کی کارروائی ہو سکتی ہے۔
تحقیقی ذرائع کے مطابق اس گروہ کے بعض افراد ماضی میں ایک کریڈٹ کارڈ کمپنی سے وابستہ رہ چکے تھے، جس کی بدولت انہیں صارفین کے ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی۔ اسی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر ایک جعلی موبائل ایپ تیار کی گئی، جو درحقیقت نقصان دہ اے پی کے فائل تھی۔
ملزمان جعلی سم کارڈز کے ذریعے شہریوں سے رابطہ کرتے، خود کو بینک اہلکار ظاہر کرتے اور “کارڈ اپ گریڈ” یا “کریڈٹ لمٹ میں اضافے” کا جھانسہ دے کر فائل انسٹال کرواتے۔ فائل انسٹال ہونے کے بعد موبائل فون کا کنٹرول ہیکرز کے پاس چلا جاتا اور وہ کارڈ کی تفصیلات استعمال کرتے ہوئے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز سے مہنگی اشیاء خرید لیتے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس کیس میں خریدی گئی الیکٹرانک اشیاء فرید آباد کے ایک پتے پر منگوائی گئیں، جنہیں بعد میں آن لائن مارکیٹ پلیس پر فروخت کر دیا گیا۔
متاثرہ خاتون کی شکایت پر 4 فروری کو مقدمہ درج کیا گیا۔ سائبر پولیس نے ڈیجیٹل شواہد اور لوکیشن ڈیٹا کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کیا اور سامان کی ترسیل کے مقام تک رسائی حاصل کی۔ کارروائی کے دوران چار افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے چار موبائل فون برآمد کیے گئے ہیں، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والی فائلیں یا لنکس ہرگز ڈاؤن لوڈ نہ کریں، کسی کے ساتھ او ٹی پی یا بینک کارڈ کی معلومات شیئر نہ کریں، اور اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ بینک کبھی بھی واٹس ایپ کے ذریعے ایپلیکیشن یا لنک بھیج کر ذاتی معلومات طلب نہیں کرتے۔

Leave a reply