واشنگٹن پوسٹ میں بڑے پیمانے پر عملے کی کمی، عالمی صحافت پر اثرات کا خدشہ

0
57
واشنگٹن پوسٹ میں بڑے پیمانے پر عملے کی کمی، عالمی صحافت پر اثرات کا خدشہ

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے حالیہ دنوں میں اپنے ادارتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تین سو سے زائد صحافیوں اور عملے کے افراد کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تعداد اخبار کے ایڈیٹوریل اسٹاف کے ایک تہائی سے بھی زیادہ ہے، جسے میڈیا حلقوں میں ایک غیر معمولی اور تشویشناک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں بین الاقوامی بیوروز، مقامی رپورٹنگ، کھیلوں کی کوریج اور بزنس جرنلزم شامل ہیں۔ کئی سینئر رپورٹرز اور ایڈیٹرز نے اس پیش رفت پر سوشل میڈیا کے ذریعے افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔
بین الاقوامی امور کے معروف کالم نگار ایشان تھرور بھی فارغ کیے جانے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے جذباتی طور پر مشکل ہے اور انہوں نے اپنے ساتھی صحافیوں کے لیے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایشان تھرور نے برسوں قبل عالمی امور پر مبنی ایک کالم کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد قارئین کو عالمی سیاست اور امریکا کے کردار کو بہتر انداز میں سمجھانا تھا۔
یوکرین میں رپورٹنگ کرنے والی صحافی لیزی جانسن نے بتایا کہ انہیں تنازعے کے دوران کام کرتے ہوئے ملازمت سے ہٹا دیا گیا، جسے انہوں نے انتہائی مایوس کن تجربہ قرار دیا۔ اسی طرح نیوز ڈیسک اور مختلف بین الاقوامی بیوروز سے وابستہ دیگر صحافیوں نے بھی اس فیصلے پر دکھ اور بے چینی ظاہر کی ہے۔
اخبار کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹی بارون نے اس اقدام کو ادارے کی تاریخ کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں قارئین کو معیاری، گہرائی پر مبنی اور مستند رپورٹنگ تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے ادارے کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے زیادہ نقصان بین الاقوامی رپورٹنگ کو پہنچا ہے، جو طویل عرصے سے واشنگٹن پوسٹ کی شناخت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر زمینی رپورٹنگ کے مستقبل اور معیاری صحافت کے تسلسل سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
فارغ کیے گئے صحافیوں نے مجموعی طور پر اپنے تجربات، ساتھیوں کی محنت اور قارئین کے اعتماد کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ معیاری صحافت کسی نہ کسی شکل میں اپنا سفر جاری رکھے گی۔

Leave a reply