
ملک بھر میں بجلی کے صارفین کے لیے ایک بڑی پالیسی تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیٹ میٹرنگ کا پرانا نظام ختم کرتے ہوئے نیٹ بلنگ کے نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں، جن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے ضابطے کے تحت گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کے ساتھ ساتھ بائیو گیس، ہوا اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین بھی شامل ہوں گے، بشرطیکہ ان کی پیداواری صلاحیت ایک میگاواٹ تک ہو۔ ایسے صارفین کو ’’پروسیومر‘‘ کا درجہ دیا جائے گا، جو بجلی کے استعمال کے ساتھ ساتھ اضافی پیداوار قومی گرڈ کو فراہم کریں گے۔
نیٹ بلنگ نظام کے مطابق اگر صارف بجلی کی پیداوار سے زیادہ استعمال کرے گا تو اسے استعمال شدہ یونٹس کا بل موجودہ سرکاری ٹیرف پر ادا کرنا ہوگا۔ جبکہ اضافی بجلی قومی گرڈ کو فروخت تصور کی جائے گی، جس کی قیمت نیشنل ایوریج ٹیرف کے مطابق ادا کی جائے گی۔ اس طرح اب بجلی کی خرید و فروخت ایک ہی اوسط قومی نرخ پر کی جائے گی۔
بلنگ سائیکل کے اختتام پر حساب کتاب کیا جائے گا، اور اگر صارف کے حق میں رقم بنتی ہے تو وہ اگلے بل میں ایڈجسٹ ہو گی یا سہ ماہی بنیاد پر ادا کی جا سکے گی۔
نیپرا کے مطابق نیٹ بلنگ کی سہولت حاصل کرنے کے لیے صارفین کو اپنی متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی میں درخواست دینا ہوگی۔ درخواست کی جانچ کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ سسٹم تکنیکی اور حفاظتی معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔
نئے نظام میں وولٹیج اور فریکوئنسی کنٹرول، حفاظتی آلات کی تنصیب اور ہنگامی حالات میں سسٹم کو گرڈ سے الگ کرنے کے انتظامات لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ منظوری کے بعد فریقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا، جس کے بعد نیپرا کی اجازت سے بجلی کی ترسیل یا فروخت شروع ہو سکے گی۔
کسی بھی تکنیکی یا حفاظتی خدشے کی صورت میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کو عارضی طور پر کنکشن منقطع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
نیپرا نے نئے نیٹ بلنگ معاہدوں کی مدت پانچ سال مقرر کر دی ہے، جسے فریقین کی رضامندی سے مزید پانچ سال کے لیے بڑھایا جا سکتا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 2015 کے نیٹ میٹرنگ قواعد ختم کر دیے گئے ہیں، تاہم پہلے سے موجود معاہدے اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہیں گے۔ ان معاہدوں کی تجدید کے وقت نئے نیٹ بلنگ قوانین لاگو ہوں گے۔
نیپرا کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بجلی کے نظام میں شفافیت، توازن اور پائیدار اصلاحات کو فروغ دینا ہے، جبکہ اس پورے نظام کی نگرانی اور تنازعات کے حل کا اختیار اتھارٹی کے پاس ہی رہے گا۔









