نوجوانوں میں شارٹ ویڈیوز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ذہنی صحت پر خطرات

0
33
نوجوانوں میں شارٹ ویڈیوز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ذہنی صحت پر خطرات

حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز نوجوانوں کے درمیان سب سے زیادہ مقبول مواد بن گئی ہیں۔ یہ ویڈیوز چند سیکنڈز سے چند منٹ تک کی ہوتی ہیں اور الگوردم کے ذریعے صارفین کی دلچسپی کے مطابق خود بخود چلتی رہتی ہیں۔ خودکار پلے اور مسلسل اسکرولنگ کی وجہ سے نوجوان اکثر ان ویڈیوز کو بغیر سوچے سمجھے دیکھتے اور فالو کرتے رہ جاتے ہیں۔
ماہرین نفسیات اور ڈاکٹروں کے مطابق، مختصر ویڈیوز کا زیادہ استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت، ادراکی صلاحیت اور مجموعی فلاح و بہبود پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
سائیکلوجی ٹوڈے کی ایک رپورٹ میں 70 مختلف مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ زیادہ ویڈیوز دیکھنے سے نوجوانوں میں منفی موڈ، ڈپریشن، دباؤ، اضطراب، تنہائی کے احساس میں اضافہ، ذہنی فلاح و بہبود میں کمی اور نیند کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر گیری گولڈفیلڈ کے مطابق یہ اثرات تب زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جب ویڈیوز جذباتی اور بار بار دیکھی جائیں۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی تحقیق کے مطابق، شارٹ ویڈیوز کا مسلسل استعمال نوجوانوں کی توجہ مرکوز کرنے، یادداشت اور تجزیاتی سوچ کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ماہرین اسے “برین روٹ” یعنی دماغی زوال کہتے ہیں۔
مزید برآں، رات دیر تک ویڈیوز دیکھنے سے نیند متاثر ہوتی ہے، صبر اور خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور تعلیمی دلچسپی بھی کم ہو جاتی ہے۔ صحت مند مشغلے، کھیل کود، خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا، اور فطرت کا مشاہدہ کرنے جیسی سرگرمیاں اکثر محدود رہ جاتی ہیں۔
دماغی اسکینز سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ ویڈیوز دیکھنے سے دماغ کے وہ حصے کم فعال ہو جاتے ہیں جو خود کنٹرول اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہیں، اور سفید مادے میں بھی تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
ماہرین والدین اور نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اسکرین ٹائم کی حد مقرر کریں، آف لائن سرگرمیاں بڑھائیں اور پلیٹ فارمز کی نشے جیسی خصوصیات سے آگاہی پیدا کریں تاکہ ویڈیوز کے استعمال کو محفوظ اور محدود بنایا جا سکے۔

Leave a reply