
موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ نزلہ، زکام اور فلو کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لیکن نئی تحقیقات کے مطابق یہ بیماری مردوں اور خواتین پر ایک جیسے اثر نہیں ڈالتی۔
ماہرین کے مطابق خواتین کا مدافعتی نظام وائرس کے خلاف تیز ردعمل دیتا ہے۔ خواتین میں موجود ہارمون ایسٹروجن مدافعتی خلیات کی سرگرمی اور اینٹی باڈیز کی پیداوار بڑھاتا ہے، جس سے انفیکشن جلد ختم ہوتا ہے، لیکن جسم میں سوزش بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے خواتین میں تھکن، سر درد اور جسمانی درد جیسی علامات زیادہ دنوں تک رہ سکتی ہیں۔
مردوں میں موجود ہارمون ٹیسٹوسٹیرون سوزش کو کم کرتا ہے، جس سے بیماری کی ابتدا میں علامات ہلکی محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرد اکثر ابتدائی دنوں میں علاج کے لیے دیر کرتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات مردوں کو تیز بخار بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیسٹوسٹیرون دماغ کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے حصے پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیقی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین میں نزلہ زکام کی شدت وقت کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق، مختلف وائرسز جیسے انفلوئنزا اور کورونا سے متاثر خواتین میں شدید تھکن اور جسمانی درد کے امکانات مردوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ مردوں میں ابتدا میں علامات ہلکی ہوتی ہیں، مگر بعد میں شدت اختیار کر لیتی ہیں اور کم وقت میں بہتر ہو جاتی ہیں۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ذہنی دباؤ بھی بیماری پر اثر ڈال سکتا ہے۔ خواتین میں دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے علامات دیر سے کم ہوتی ہیں، جبکہ مرد دباؤ میں علامات کو دبا لیتے ہیں، مگر اس سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق مرد اور خواتین کے لیے علاج اور احتیاط میں فرق کرنا ضروری ہے۔ خواتین کو نزلہ زکام کے دوران زیادہ آرام، پانی اور ہلکی غذا کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ مردوں کے لیے قوت مدافعت بڑھانے والی غذائیں، جیسے وٹامن ڈی اور زنک، فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نزلہ زکام سب کو ہوتا ہے، لیکن ہر شخص پر اس کے اثرات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے اپنی جسمانی حالت کو سمجھ کر علاج اور احتیاط کرنا بہتر ہے۔









