
مینار پاکستان پر بدسلوکی کا شکار ہونے والے ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم نے مقدمہ کی پیروی نہ کرنے کا بیان سیشن کورٹ لاہور میں قلمبند کروا دیا۔ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ اور اسکے رسول کی خاطر تمام ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔ ملزمان کے بری ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
اگست 2021 میں مینار پاکستان میں ٹک ٹاکر خاتون عائشہ اکرم سے ہجوم کی جانب سے بدسلوکی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی۔ ٹک ٹاکر خاتون نے سیشن کورٹ لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج گل عباس کی عدالت میں مقدمہ کی پیروی نہ کرنے کا بیان قلمبند کروا دیا۔ خاتون نے عدالت میں بیان حلفی بھی پیش کر دیا۔ عائشہ اکرم نے بیان دیا کہ میں نے اللہ اور اسکے رسول کی رضا کی خاطر تمام ملزمان کو معاف کر دیا ہے۔
مجھے ملزمان کے بری ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں آزادانہ رضامندی اور بغیر کسی خوف کے اپنا بیان عدالت میں قلمبند کروا رہی ہوں۔ مقدمے میں کل 12 ملزمان نے بریت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ عدالت نے وکلا کو ملزمان کی بریت کی درخواستوں اور متاثرہ خاتون کے بیان پر دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے سماعت 26 اگست تک ملتوی کر دی









