
دارچینی پاکستان کے بیشتر گھروں میں استعمال ہونے والا ایک عام مگر بے حد مفید مسالا ہے۔ یہ نہ صرف کھانوں کا ذائقہ اور خوشبو بڑھاتی ہے بلکہ صحت کے لیے بھی متعدد فوائد رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دارچینی اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔
مچھروں یا دیگر کیڑوں کے کاٹنے سے ہونے والی جلن اور خارش میں بھی دارچینی فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے دارچینی کو شہد میں ملا کر پیسٹ تیار کیا جائے اور متاثرہ جگہ پر لگایا جائے تو جلن میں کمی آسکتی ہے۔
جلد کے مسائل خصوصاً کیل مہاسوں کے علاج میں بھی دارچینی مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ یہ جلد میں موجود بیکٹیریا کے خاتمے میں مدد دیتی ہے۔ دارچینی کو جائفل اور شہد کے ساتھ ملا کر متاثرہ حصے پر لگایا جائے اور کچھ دیر بعد نیم گرم پانی سے دھو لیا جائے تو جلد صاف اور تروتازہ محسوس ہوتی ہے۔
گردن اور کندھوں کے درد میں کمی کے لیے بھی دارچینی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سفید چاول، دارچینی کے ٹکڑے اور لونگ کو ایک کپڑے یا جراب میں ڈال کر گرم کیا جائے اور اسے گردن کے گرد لپیٹا جائے تو اس کی حرارت اور خوشبو سکون پہنچانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
نظامِ ہاضمہ کو بہتر بنانے میں بھی دارچینی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ پیٹ پھولنے، گیس اور بدہضمی کی شکایت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کھانے میں شامل کرنے یا کھانے کے بعد اس کا چھوٹا سا ٹکڑا استعمال کرنے سے معدہ بہتر طور پر کام کرتا ہے۔
گھریلو مسائل میں بھی دارچینی کارآمد ہے۔ چیونٹیوں کی آمد کو روکنے کے لیے اس کا سفوف ان مقامات پر چھڑک دیا جائے جہاں سے وہ داخل ہوتی ہیں تو اس کی خوشبو انہیں دور رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
سانس کی بدبو کے خاتمے کے لیے بھی دارچینی مفید سمجھی جاتی ہے۔ اس کا ایک چھوٹا ٹکڑا چوسنے سے منہ کی ناگوار بو میں کمی آسکتی ہے اور سانس تازہ محسوس ہوتی ہے۔
یوں دارچینی نہ صرف ایک خوشبودار مسالا ہے بلکہ گھریلو اور صحت سے متعلق کئی مسائل کا آسان اور قدرتی حل بھی فراہم کرتی ہے۔









