
سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی فاضل جج سے مکالمہ
جناح اسپتال کے ڈاکٹر نے لکھا کر دیا ہے
کمرہ عدالت میں اپکی اواز چیمبر میں ارہی ہیں
یہاں سیاسی پوائنٹ سکورینگی نہ کریں
کیا اپکو یہاں سے انصاف نہیں مل رہا عدالت
پھر ایسے کرتے ہیں کہ جیل ٹرائل کے حکم ہوا ہے ہم وہ کروا دیتے ہیں اگر اپنےیہاں تقریریں کرنی ہے تو عدالت
میں احسان نہیں کر رہا جو اپکا ریلیف بنتا ہے وہی اپکو ملے گا عدالت
میں تکلیف ہوں اس وقت کندھا میں درد سے رات ساری اٹھا رہا عمر سرفراز چیمہ
میں نے سرجن کو چیک کروایا اسنے کہہ کہ اپکو جناح ہسپتال میں داخل ہونا پڑے گا عمر سرفراز چیمہ
مھجے ڈاکٹر نے ایڈمٹ ہونے کا کہہ تھا عمر سرفراز,چیمہ
عدالت نے جیل سپرڈینڈ کو حکم دے رہا ہوں کل تک اس پر عملدامد ہو عدالت
عمر سرفراز چیمہ کا کمرہ عدالت میں جیل حکام پر بھڑک اٹھے
یہ انتقام ہی لے رہے ہیں انیہں شرم نہیں کوئی حیا نہیں
جنرل ہسپتال کے ڈاکٹر نے بھی چیک اپ کروانے کا کہہ ہے
جیل سپرڈینڈ کہہ رہا ہے چیک اپ کی ضرورت نہیں وہ کوئی ڈاکٹر ہے
مھجے اگر معذروی ہوگئی تو کون ذمدار ہے
دس بار درخواست دی ہے جج صاحب نے احکامات بھی جاری کیے لیکن عملدامد نییں ہوا
جیل حکام کہتے ہیں نانی بیھٹی ہوئی ہیں اوپر نہیں چیک اپ کروانا
میں اج عدالت میں ہوں جج صاحب بولآئیں سپرڈینڈ کو کہیں انہیں
عجیب مذاق بنا کر رکھا ہوا ہے یہ انتقام ہی تو لے رہے ہیں









