
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں شمسی توانائی کی پیداوار 8000 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے اور حکومت قابلِ تجدید توانائی کے حصے کو مزید بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں پاکستان کی معیشت پر ایک پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی اور سپلائی چین کے چیلنجز کے باوجود پاکستان نے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا۔ ان کے مطابق ابتدائی سبسڈی کے بعد توانائی قیمتوں میں بتدریج ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے جبکہ کم آمدن طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یوروبانڈ کی ادائیگی معمول کے مطابق رہی جو بیرونی مالی ذمہ داریوں پر مارکیٹ کے اعتماد کی علامت ہے۔ ان کے مطابق کراچی بندرگاہ پر ٹرانزٹ ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ ہوا جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے مارچ میں ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر اہم ہیں لیکن معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل چیلنج پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ہے، جبکہ حکومت ٹیکس اصلاحات، ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے اور ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ صنعتی شعبے کے لیے مستقل سبسڈی کے بجائے مسابقتی نظام اپنانا ہوگا، جبکہ ٹیرف اصلاحات اور عالمی منڈیوں کے ساتھ انضمام کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چاروں صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس سے متعلق قانون سازی مکمل کی جا چکی ہے اور 28 سرکاری ادارے نجکاری کے لیے بھجوائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں، اور حکومت کاروباری ماحول بہتر بنانے کو ترجیح دے رہی ہے۔








