ملک بھر میں سپر فلو کے کیسز میں اضافہ، طبی ماہرین کی عوام کے لیے انتباہ

0
139
ملک بھر میں سپر فلو کے کیسز میں اضافہ، طبی ماہرین کی عوام کے لیے انتباہ

ملک بھر میں سپر فلو کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور طبی ماہرین نے عوام سے سختی سے کہا ہے کہ نزلہ زکام کو معمولی نہ سمجھیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ موسم میں پھیلنے والا یہ وائرس عام فلو نہیں بلکہ انفلوئنزا اے (H3N2) ہے، جو زیادہ خطرناک اور تیزی سے منتقل ہونے والا ہے۔

ماہرین کے مطابق سپر فلو کی علامات عام نزلہ زکام کے مقابلے میں زیادہ شدید ہوتی ہیں، جن میں تیز بخار، شدید کھانسی، گلے میں خراش، جسمانی اور پٹھوں میں درد، غیر معمولی تھکن اور بعض مریضوں میں سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ انہوں نے تاکید کی ہے کہ اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مرض سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انفلوئنزا اے (H3N2) وائرس 1968 سے موجود ہے اور اب تک اس میں متعدد بڑی جینیاتی تبدیلیاں آئیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ انسانی مدافعتی نظام سے بچنے کے قابل رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال فلو ویکسین کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ موجودہ وائرس سے محفوظ رہا جا سکے۔

بچوں، بزرگوں اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد میں اس وائرس کے پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق انفلوئنزا ایک عام مگر مسلسل ارتقا پذیر بیماری ہے، جو ہر سال نئی شکل اختیار کرتی ہے۔ اگر کیسز میں اضافہ ہوتا ہے تو وینٹی لیٹر پر منتقل ہونے والے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین عوام پر زور دے رہے ہیں کہ احتیاطی تدابیر اپنائیں، ویکسین لگوائیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر فوراً طبی مدد حاصل کریں۔

Leave a reply