
عالمی منڈی میں بدھ کے روز سونے کی قیمت بڑھ کر 5 ہزار 200 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں معاشی بے یقینی اور مختلف خطوں میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سونے کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سونے کی قیمت کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایک اونس میں تقریباً 31.10 گرام سونا شامل ہوتا ہے۔ اس حساب سے اگر ایک اونس سونا 5 ہزار 200 ڈالر میں فروخت ہو رہا ہو تو فی گرام قیمت تقریباً 167 ڈالر بنتی ہے۔
مقامی پیمائش کے مطابق ایک تولہ میں تقریباً 11.66 گرام سونا ہوتا ہے، جس کے تحت ایک تولہ سونے کی قیمت تقریباً 1 ہزار 950 ڈالر کے قریب بنتی ہے۔
عالمی نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت 5 لاکھ 40 ہزار روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت پر ٹیکس، درآمدی اخراجات اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث عالمی اور مقامی قیمتوں میں فرق ہو سکتا ہے۔









