مصنوعی ذہانت کا استعمال خواتین کےخلاف کیوں ؟

0
282
مصنوعی ذہانت کا استعمال خواتین کےخلاف کیوں ؟

ہاٹ لائن نیوز : مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی مدد سےخواتین کی نامناسب جعلی تصاویر بنانیوالی ایپس اور ویب سائٹس کےاستعمال میں حالیہ مہینوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آگئی ہے۔ گرافیکا نامی کمپنی کی ایک تحقیق میں بتایاگیاہےکہ صرف ستمبر 2023 میں 24 ملین افراد نےاہسی ویب سائٹس کااستعمال کیا جو ڈیپ فیک تصاویر تیار کرتی تھیں۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی استعمال کرنیوالی زیادہ تر ایپس یا ویب سائٹس نےلوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلیے مارکیٹنگ کیلیے مقبول سوشل نیٹ ورکس کااستعمال کیاہے۔ آسانی سے کسی دوسرے شخص سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو ایسا لگتا ہے کہ اس کے پاس کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو ہے جو حقیقت میں اس کا نہیں ہے۔

تحقیق کے مطابق 2023 کے دوران X جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی ایپس کے لنکس کی تعداد میں 24 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

تحقیق کیمطابق ایسی زیادہ تر سروسز صرف خواتین کی تصاویر پر ہی کام کرتی ہیں۔ محققین کایہ کہناہےکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسامواد پوسٹ کیاجاتا ہے جسکی وجہ سے خواتین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایکس میں تصویر پوسٹ کر کے ایک ایپ نے لوگوں کو بتایا کہ وہ نامناسب تصاویر بنا کر اس شخص کو بھیج سکتے ہیں جس کی وہ تصویر کھینچ رہے ہیں۔ فلمی ستاروں کی ایسی جعلی تصاویراورویڈیوز پہلے ہی انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہیں لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں ترقی کےباعث ڈیپ فیک سافٹ ویئرکا استعمال آسان ہوجائے گا جب کہ جعلی مواد کو پکڑنابےحدمشکل ہو جائے گا۔ محققین کیمطابق ہم نے دیکھا ہے کہ عام لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیاہےکہ متاثرہ خواتین میں سےزیادہ تر تصاویر سےواقف ہی نہیں تھیں اور جو لوگ اس بات سے آگاہ تھے، انہیں قانونی کارروائی کرنےمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

Leave a reply