
جاپان کے محققین نے حال ہی میں ایک دلچسپ تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ منہ میں موجود جراثیم، خاص طور پر وہ جو مسوڑھوں کی بیماری میں شامل ہوتے ہیں، ملٹی پل سکلیروسز کی شدت بڑھانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ملٹی پل سکلیروسز ایک اعصابی بیماری ہے جس میں مدافعتی نظام دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے خلیات کے حفاظتی غلاف (میلوئن) پر حملہ کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ اور جسم کے درمیان پیغامات کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، اور مریضوں کو پٹھوں میں کمزوری، توازن کے مسائل، اور بینائی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تحقیق میں محققین نے مریضوں کی زبان سے نمونے جمع کیے اور پایا کہ جن افراد کے منہ میں فوزوبیکٹیریم نیوکلئیٹم نامی جراثیم زیادہ تھے، ان میں بیماری کی علامات زیادہ شدید تھیں۔ مزید یہ کہ ایسے مریضوں کے منہ میں دیگر نقصان دہ جراثیم بھی موجود تھے، اور یہ اثر صرف ملٹی پل سکلیروسز میں دیکھا گیا، نہ کہ دوسری ملتی جلتی بیماریوں میں۔
مسوڑھوں کی بیماری ایک عام اور طویل مدتی انفیکشن ہے جو تقریباً نصف عالمی آبادی کو متاثر کرتا ہے۔ یہ نہ صرف دانتوں کے نقصان کا سبب بنتی ہے بلکہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور جوڑوں کی بیماری کے خطرات کو بھی بڑھا سکتی ہے۔
اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ منہ کے جراثیم صرف دانتوں اور مسوڑھوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اعصابی بیماریوں کی شدت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ منہ کی صفائی اور جراثیم پر قابو پانا نہ صرف دانتوں بلکہ مجموعی صحت اور اعصابی بیماریوں کے علاج میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔









