لیبیا کے فوجی سربراہ کی ہلاکت اور پاکستانی آرمی چیف کے دورے پر سوشل میڈیا بحث کیوں؟

0
149
لیبیا کے فوجی سربراہ کی ہلاکت اور پاکستانی آرمی چیف کے دورے پر سوشل میڈیا بحث کیوں؟

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے قریب پیش آنے والے ایک فضائی حادثے میں لیبیا کے اعلیٰ فوجی افسر جنرل محمد علی احمد الحداد کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ ان قیاس آرائیوں کی بڑی وجہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورۂ لیبیا ہے، جسے بعض صارفین اس حادثے سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم دستیاب معلومات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورے کے دوران مشرقی لیبیا کے شہر بن غازی میں لیبیا نیشنل آرمی (ایل این اے) کے نائب کمانڈر صدام خلیفہ حفتر سے ملاقات کی تھی، جبکہ فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے جنرل الحداد کا تعلق طرابلس میں قائم حکومت سے تھا۔
لیبیا کا سیاسی و عسکری پس منظر
لیبیا اس وقت شدید سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ ملک میں عملی طور پر دو الگ حکومتیں اور دو مختلف عسکری ڈھانچے موجود ہیں۔
مشرقی لیبیا میں بن غازی سے حکومتِ برائے قومی استحکام کام کر رہی ہے، جس کی عسکری حمایت جنرل خلیفہ حفتر کی زیر قیادت لیبیا نیشنل آرمی کو حاصل ہے۔
مغربی لیبیا میں طرابلس سے اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومتِ برائے قومی اتحاد (GNU) قائم ہے، جس کے پاس باقاعدہ منظم فوج کے بجائے مختلف ملیشیاز کی حمایت ہے۔
لیبیا نیشنل آرمی ملک کے بڑے حصے، بالخصوص تیل پیدا کرنے والے علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے، جس کی وجہ سے اسے مالی اور عسکری برتری حاصل ہے۔
حادثے میں ہلاک جنرل کس فریق سے تعلق رکھتے تھے؟
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے برعکس، فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے جنرل محمد علی احمد الحداد کا تعلق طرابلس میں قائم حکومتِ برائے قومی اتحاد سے تھا۔ ان کا لیبیا نیشنل آرمی یا جنرل خلیفہ حفتر کے عسکری ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور نہ ہی وہ اس ملاقات کا حصہ تھے جس میں پاکستانی آرمی چیف نے شرکت کی۔
دفاعی تعاون کی خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ لیبیا کے دوران پاکستان اور مشرقی لیبیا کے عسکری حکام کے درمیان دفاعی تعاون یا سازوسامان سے متعلق ممکنہ بات چیت کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔
ماہرین کے مطابق لیبیا کی موجودہ صورتحال میں کسی بھی عسکری یا دفاعی رابطے کو علاقائی اور عالمی طاقتوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، کیونکہ مختلف عالمی ممالک مختلف لیبیائی فریقوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

موجودہ شواہد کے مطابق انقرہ کے قریب پیش آنے والا فضائی حادثہ اور پاکستانی آرمی چیف کا دورۂ لیبیا براہِ راست ایک دوسرے سے متعلق نہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی باتیں زیادہ تر غلط فہمی یا لیبیا کی پیچیدہ سیاسی صورتحال سے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔

Leave a reply