قطر میں مبینہ جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب، 10 افراد گرفتار

قطری حکام نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں مبینہ طور پر غیر ملکی نیٹ ورک سے وابستہ 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق گرفتار شدگان میں سے سات افراد کو اہم اور فوجی تنصیبات کی معلومات جمع کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جبکہ تین کو مبینہ طور پر تخریب کاری کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہیں بیرونِ ملک سے ہدایات موصول ہوتی تھیں اور وہ حساس مقامات سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے نقشے، جغرافیائی کوآرڈینیٹس، مواصلاتی آلات اور دیگر تکنیکی سامان برآمد ہوا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کے بعد خلیجی خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم بعض اطلاعات میں شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
قطری وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران ملک کی فضائی حدود کی جانب متعدد میزائل اور ڈرون داغے گئے، جنہیں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق کسی اہم تنصیب کو نقصان نہیں پہنچا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ حالیہ حملوں سے قبل قطر کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی، جس پر حکام نے حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فضائی حدود کی عارضی بندش کے باعث ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔
دوسری جانب خطے کے چند ممالک نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری ہی خطے میں استحکام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔









