قدیم دور میں انسان رات کو دو حصوں میں سوتے تھے، تحقیق میں دلچسپ انکشاف

0
139
قدیم دور میں انسان رات کو دو حصوں میں سوتے تھے، تحقیق میں دلچسپ انکشاف

جدید سائنسی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ قدیم زمانے میں انسان رات بھر ایک ہی بار نہیں سوتے تھے بلکہ ان کی نیند دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی۔ لوگ شام کے بعد جلدی سو جاتے، نصف شب کے قریب کچھ دیر جاگتے اور پھر دوبارہ نیند میں چلے جاتے۔ اس درمیانی وقفے میں وہ دعا، مطالعہ، خوابوں پر غور یا اہلِ خانہ اور پڑوسیوں سے بات چیت جیسے پر سکون کام کرتے تھے۔

ماہرین کے مطابق پچھلی دو صدیوں میں یہ قدرتی نیند کا انداز بدل گیا۔ مصنوعی روشنی — جیسے تیل کے لیمپ، گیس لائٹس اور بعد میں بجلی — نے رات کو جاگنے کے قابل بنا دیا، جس سے انسانی حیاتیاتی گھڑی میں تبدیلی آئی۔ نتیجتاً، لوگ آہستہ آہستہ پوری رات ایک ہی بار سونے کے عادی ہو گئے۔

صنعتی انقلاب کے بعد فیکٹریوں اور دفاتر کے مقررہ اوقات نے بھی اس تبدیلی کو مضبوط کیا، اور دو حصوں والی نیند کی روایت تقریباً ختم ہو گئی۔

حالیہ تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ اگر لوگوں کو لمبے اندھیرے والے ماحول میں رکھا جائے اور انہیں وقت یا روشنی کی کوئی اطلاع نہ دی جائے تو وہ فطری طور پر دوبارہ دو حصوں میں سونا شروع کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی سمجھ ہمیں موجودہ دور کی نیند سے متعلق مشکلات، جیسے رات میں بار بار جاگنے، کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص رات میں جاگ جائے تو بہتر ہے کہ کم روشنی میں کوئی پرسکون سرگرمی کرے اور پھر دوبارہ نیند لینے کی کوشش کرے۔

Leave a reply