قدرتی جانداروں کی طرح خود کو دوبارہ فعال کرنے والے روبوٹس

0
50
قدرتی جانداروں کی طرح خود کو دوبارہ فعال کرنے والے روبوٹس

سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایسے جدید روبوٹس تیار کیے ہیں جو شدید نقصان کے باوجود اپنا کام جاری رکھنے اور خود کو دوبارہ فعال کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان روبوٹس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ آسانی سے ناکارہ نہیں ہوتے بلکہ کسی حد تک “مرنے سے انکار” کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

Northwestern University کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ماہرین نے ایسے روبوٹس ڈیزائن کیے ہیں جو نہ صرف تیزی سے حرکت کر سکتے ہیں بلکہ جسمانی طور پر متاثر ہونے کے باوجود اپنی کارکردگی برقرار رکھتے ہیں۔ تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ اگر ان روبوٹس کا کوئی حصہ خراب یا الگ ہو جائے، تب بھی یہ خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور اپنی حرکت جاری رکھتے ہیں۔

ان کی کامیابی کی شرح 90 فیصد سے زائد بتائی گئی ہے، یعنی شدید نقصان کے باوجود یہ رینگتے یا لڑکھڑاتے ہوئے بھی اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے خودکار ڈیزائن اور ارتقائی الگورتھمز کا استعمال کیا گیا ہے، جن کے ذریعے ہزاروں ممکنہ ساختوں میں سے بہترین ڈھانچہ منتخب کیا گیا۔

یہ روبوٹس چھوٹے ماڈیولز یا بلاکس پر مشتمل ہوتے ہیں، جنہیں تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ ان کی ساخت انہیں مختلف اور مشکل سطحوں جیسے ریت، مٹی اور گھاس پر بھی مؤثر طریقے سے حرکت کرنے کے قابل بناتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی صلاحیت کسی حد تک قدرتی جانداروں، جیسے اسٹار فِش، سے ملتی جلتی ہے جو اپنے جسم کے حصے کھو دینے کے بعد دوبارہ بحال ہو سکتی ہیں۔ یہی خاصیت انہیں روایتی مشینوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ریسکیو آپریشنز میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خاص طور پر زلزلوں یا دیگر آفات کے دوران، جہاں ملبے کے نیچے پہنچنا مشکل ہوتا ہے، یہ روبوٹس متاثرہ افراد تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ ان کی حرکات کچھ لوگوں کو غیر معمولی یا خوفناک محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن سائنسی دنیا میں اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو روبوٹکس کے مستقبل کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

Leave a reply