
فلو کی نئی قسم کے باعث تعلیمی اداروں میں احتیاطی اقداماتدنیا کے مختلف حصوں میں انفلوئنزا کی شدید لہر کے باعث طبی مراکز پر دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ متعدد ممالک میں اسپتالوں میں فلو کے مریضوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق انفلوئنزا وائرس کی نئی قسم A(H3N2) کے ذیلی گروپ، جسے ’سب کلاڈ کے‘ کہا جا رہا ہے، یورپ کے کئی ممالک میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ خاص طور پر برطانیہ میں فلو کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق روزانہ اوسطاً 2600 سے زائد افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا جا رہا ہے، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کورونا وبا کے بعد صحت کے نظام پر سب سے بڑا دباؤ ثابت ہو رہی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ وائرس کی یہ نئی قسم زیادہ مہلک نہیں، تاہم اس کا پھیلاؤ معمول کے موسم سے پہلے شروع ہو جانا تشویش کا باعث ہے۔
طبی رپورٹس کے مطابق بچوں اور بزرگ افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر بعض تعلیمی اداروں میں عارضی تعطیلات جبکہ کچھ میں تدریسی اوقات محدود کر دیے گئے ہیں۔









