فلمی دنیا کی چاندنی، مسرت نذیر آج کہاں ہیں؟

0
116
فلمی دنیا کی چاندنی، مسرت نذیر آج کہاں ہیں؟

پاکستانی فلم و موسیقی کی دنیا میں ایک ایسا نام جو آج بھی سننے والوں کے دلوں میں تازگی بھر دیتا ہے، وہ نام ہے مسرت نذیر۔ اپنے منفرد انداز، سریلی آواز اور باوقار شخصیت کے باعث وہ نہ صرف ایک مقبول اداکارہ تھیں بلکہ ایک دلوں کو چھو جانے والی گلوکارہ بھی رہیں۔

مسرت نذیر کا تعلق لاہور کے ایک متوسط کشمیری پنجابی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد، نذیر احمد، میونسپل کارپوریشن لاہور میں بطور کنٹریکٹر کام کرتے تھے۔ والدین کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی ڈاکٹر بنے، جس کے لیے انہوں نے بہترین تعلیم کا بندوبست کیا۔ مسرت نذیر نے میٹرک میں نمایاں نمبر حاصل کیے اور کنیئرڈ کالج لاہور سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیا۔

لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مسرت نذیر کو بچپن سے موسیقی سے گہرا لگاؤ تھا، جس نے انہیں 1950 کی دہائی میں ریڈیو پاکستان کی جانب کھینچ لیا، جہاں سے ان کے فنی سفر کا آغاز ہوا۔ ریڈیو کی محدود آمدنی کے باعث انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا، اور 1955 میں مشہور ہدایتکار انور کمال پاشا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

انور کمال پاشا نے ان کا نام ”چاندنی“ رکھا اور انہیں اپنی فلم قاتل میں اداکاری کا موقع دیا۔ اسی سال پنجابی فلم پتن میں ان کی شاندار پرفارمنس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ پاٹے خان، ماہی منڈا، یکے والی، یار بیلی اور کرتار سنگھ جیسی فلموں میں ان کے یادگار کردار آج بھی فلمی شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔

مسرت نذیر کے گائے ہوئے نغمے جیسے “لٹھے دی چادر اتے سلیٹی رنگ ماہیّا” اور “میرا لونگ گواچہ” آج بھی شادی بیاہ اور خوشیوں کی تقریبات میں مقبول ہیں۔

انہوں نے نہ صرف فلموں بلکہ ریڈیو کے لیے بھی درجنوں گیت گائے، جنہوں نے ان کی شہرت کو دوام بخشا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی اعلیٰ اعزازات سے نوازا۔

1965 میں انہوں نے ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی اور کینیڈا منتقل ہو گئیں، جہاں وہ آج بھی اپنے خاندان کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کے بیٹے عمر مجید ایک معروف فلم میکر ہیں۔

اگرچہ مسرت نذیر شوبز کی دنیا سے طویل عرصے سے کنارہ کش ہیں، مگر ان کے گیت اور فلمیں آج بھی لوگوں کے دلوں کو روشن کیے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً ان کی نئی تصاویر سامنے آتی رہتی ہیں، جنہیں دیکھ کر مداح انہیں دعاؤں اور محبتوں سے یاد کرتے ہیں۔

مسرت نذیر کا نام ہمیشہ پاکستان کے سنہری فنکاروں کی صف میں جگمگاتا رہے گا۔

Leave a reply