غیر ضروری مواد سے مصنوعی ذہانت بھی ”برین روٹ“ کا شکار ہو سکتی ہے

0
99
غیر ضروری مواد سے مصنوعی ذہانت بھی ”برین روٹ“ کا شکار ہو سکتی ہے

ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ٹیکساس ایٹ آسٹن اور پورڈو یونیورسٹی کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ بڑے لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایمز) جیسے چیٹ بوٹس بھی اُس وقت ”برین روٹ“ جیسی حالت میں جا سکتے ہیں، جب انہیں مسلسل غیر مفید یا معمولی نوعیت کا ڈیٹا فراہم کیا جائے۔

”برین روٹ“ وہ اصطلاح ہے جو انسانی ذہنی صلاحیت میں کمی، توجہ کی کمی اور تنقیدی سوچ میں مشکلات کو بیان کرتی ہے، جو عام طور پر مختصر تفریحی مواد، مثلاً سوشل میڈیا ویڈیوز کے حد سے زیادہ استعمال کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق میں مختلف اے آئی ماڈلز — لاما تھری ایٹ بی ، کون ٹو پوائنٹ فائیو سیون بی زیرو پوائنٹ فائیو بی اور کون تھری فور بی — کو دو اقسام کے معمولی مواد سے فیڈ کیا گیا: مختصر وائرل پوسٹس اور طویل مگر غیر تعمیری تحریری مواد۔ نتائج کے مطابق ماڈلز کی کارکردگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ میٹا کا لاما ماڈل سب سے زیادہ متاثر ہوا، جس میں منطقی استدلال، سیاق و سباق کو سمجھنے اور حفاظتی اصولوں کی پابندی میں واضح کمی دیکھی گئی۔ کون تھری فور بی نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے کے باوجود اس اثر سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکا۔

اگرچہ چیٹ جی پی ٹی کو اس مطالعے کا حصہ نہیں بنایا گیا، مگر تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نظام بھی اسی طرح متاثر ہو سکتے ہیں جیسے انسان، جب انہیں بار بار کم معیاری معلومات فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب، اوپن اے آئی نے حال ہی میں اپنا نیا انٹرنیٹ براؤزر اٹلس متعارف کرایا ہے، جو صارفین کو چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ براہِ راست انٹرایکشن کی سہولت دیتا ہے۔ اٹلس میں متعدد ٹیبز، یوزر موڈز اور خودکار اے آئی اسسٹنٹ جیسی خصوصیات شامل ہیں، جو تحقیق، منصوبہ بندی اور آن لائن کاموں کو خود انجام دے سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، چاہے انسان ہوں یا مصنوعی ذہانت، کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ انہیں کیسا مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ غیر مفید معلومات کے مسلسل استعمال سے نہ صرف انسانی ذہن بلکہ اے آئی ماڈلز کی کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

Leave a reply