غزہ کے لیے امریکی امن منصوبہ: 21 نکات پر مشتمل خاکہ منظر عام پر آگیا

0
163
غزہ کے لیے امریکی امن منصوبہ: 21 نکات پر مشتمل خاکہ منظر عام پر آگیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران امریکہ نے غزہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک 21 نکاتی جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ منصوبہ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کی سربراہی میں تیار کیا گیا اور کچھ عرب و مسلم ممالک کے ساتھ بند کمرہ ملاقاتوں میں شیئر کیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ کو ایک غیر عسکری، محفوظ، اور ترقی یافتہ علاقہ بنانا ہے، جس سے فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جا سکے۔

منصوبے کے اہم نکات

1. غزہ کو غیر عسکری خطہ بنایا جائے گا تاکہ یہ اپنے ہمسایوں، خاص طور پر اسرائیل، کے لیے خطرہ نہ رہے۔

2. جنگ بندی کا اعلان اسرائیل اور حماس کے ابتدائی اتفاق کے فوراً بعد کیا جائے گا۔

3. اسرائیلی افواج کا تدریجی انخلا مکمل ہونے تک عالمی فورس کی نگرانی میں عمل جاری رہے گا۔

4. تمام زندہ اور جاں بحق یرغمالیوں کی رہائی 48 گھنٹوں کے اندر عمل میں لائی جائے گی۔

5. اس کے بعد سینکڑوں فلسطینی قیدیوں اور غزہ سے گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا۔

6. حماس کے پُرامن ارکان کو عام معافی دی جائے گی؛ باقیوں کو محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

7. غزہ میں یومیہ کم از کم 600 ٹرک امداد داخل ہوں گے، تعمیر نو اور ملبہ ہٹانے کا کام شروع ہوگا۔

8. امداد کی تقسیم اقوام متحدہ، ریڈ کریسنٹ اور دیگر غیر جانبدار ادارے کریں گے۔

9. عبوری ٹیکنوکریٹ حکومت قائم کی جائے گی، جسے امریکا اور عالمی ادارے نگرانی فراہم کریں گے۔

10. فلسطینی اتھارٹی کو مستقبل میں کردار دیا جائے گا، بشرطیکہ وہ اصلاحات کرے۔

11. معاشی بحالی کے لیے ماہرین کی مدد سے منصوبہ بندی کی جائے گی۔

12. خصوصی معاشی زون قائم ہوگا جس میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا۔

13. غزہ کے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو مقامی طور پر بہتر زندگی کی ضمانت دی جائے گی۔

14. حماس کو حکومت میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا، اور اس کی عسکری صلاحیتوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

15. عرب ممالک کے تعاون سے عبوری بین الاقوامی فورس غزہ میں تعینات کی جائے گی، جو مقامی پولیس کو تربیت دے گی۔

16. اسرائیل غزہ پر قبضہ یا الحاق نہیں کرے گا اور عسکری علاقے عالمی فورس کے حوالے کرے گا۔

17. اگر حماس نے منصوبے کو مسترد کیا تو بھی غیر عسکری نکات نافذ کیے جائیں گے۔

18. اسرائیل قطر میں حملے نہیں کرے گا اور قطر کے ثالثی کردار کو تسلیم کیا جائے گا۔

19. بین المذاہب مکالمے کے فروغ سے اسرائیلی اور فلسطینی معاشروں میں انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

20. جب غزہ کی تعمیرِ نو مکمل ہوگی اور فلسطینی اتھارٹی مطلوبہ اصلاحات کرے گی تو ریاستِ فلسطین کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

21. امریکہ امن مذاکرات کی سرپرستی کرے گا اور اسرائیل و فلسطین کو پُرامن بقائے باہمی کے لیے سیاسی مکالمہ فراہم کرے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں منصوبے کی بعض شقوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا:

“فلسطینیوں کو ریاست دینا القاعدہ کو نیویارک کے قریب ریاست دینے کے مترادف ہوگا۔”

یہ بیان واضح کرتا ہے کہ اسرائیلی قیادت، خاص طور پر سخت گیر عناصر، فلسطینی ریاست کے قیام کے پہلو پر سخت تحفظات رکھتے ہیں۔

دوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ انتظامیہ اس منصوبے کو امن کے لیے ایک عملی بنیاد قرار دے رہی ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ وہ امن کی جانب سنجیدہ قدم اٹھائیں۔

یہ منصوبہ اگرچہ ابتدائی نوعیت کا ہے، تاہم اس نے غزہ کے مستقبل اور فلسطینی ریاست سے متعلق ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کے بڑے نکات پر اتفاق ہوجائے تو یہ خطے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔

عرب ممالک، یورپی یونین، اور اقوام متحدہ کی ممکنہ حمایت اس منصوبے کو عالمی سطح پر تقویت دے سکتی ہے، تاہم اسرائیل اور فلسطین کے اندرونی سیاسی اختلافات اس راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

غزہ کی جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے حوالے سے امریکہ کا یہ 21 نکاتی منصوبہ ایک متنازع مگر امید افزا پیش رفت ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی یا ناکامی نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سیاسی مستقبل کو متاثر کرے گی۔

اگر فریقین نے لچک دکھائی، اور عالمی برادری نے تعمیری کردار ادا کیا، تو یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے دیرینہ خواب کو تعبیر دے سکتا ہے۔

Leave a reply