غزہ میں پہلی بارش نے مشکلات میں اضافہ کر دیا، خیمے ڈوب گئے، متاثرین کا سامان برباد

غزہ پٹی میں موسمِ سرما کی پہلی بارش نے پہلے سے ہی مشکلات کا شکار بے گھر فلسطینیوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا۔ رات گئے تیز بارش نے پناہ گزینوں کے خیموں کو پانی سے بھر دیا، جس کے باعث ان کی بچی کھچی ضروری اشیاء بھی ضائع ہوگئیں۔
بارش کے وقت لوگ اپنے عارضی خیموں میں سو رہے تھے کہ اچانک پانی تیزی سے خیموں میں داخل ہونا شروع ہوگیا۔ بستر، کمبل اور کپڑے سبھی پانی میں بھیگ گئے، جبکہ متعدد خیمے مکمل طور پر متاثر ہوئے۔
متاثرہ خواتین نے اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس نہ کوئی محفوظ جگہ ہے اور نہ ہی بارش سے بچنے کا کوئی انتظام۔ ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ ان کا خیمہ ان کے بیٹے نے بنایا تھا جو اب شہید ہو چکے ہیں، اور بارش نے وہ واحد سہارا بھی چھین لیا۔
ایک اور خاتون نے بتایا کہ وہ اور ان کے چھوٹے بچے پوری رات بارش میں بھیگتے رہے کیونکہ ان عارضی خیموں کے علاوہ ان کے پاس کوئی چھت موجود نہیں۔ بارش کے بعد وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتے ہوئے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔
شدید بارش کے بعد سردی میں اضافہ ہوگیا ہے، اور کھلے آسمان تلے رہنے والے بے گھر فلسطینی سخت سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں۔ انتظامات نہ ہونے کے باعث لوگ اپنی مدد آپ کے تحت خیموں کے اندر جمع ہونے والا پانی نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امدادی ایجنسیاں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بارش کا پانی جمع ہونے سے بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صفائی ستھرائی کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں۔









