عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے حوالے سے نئے اصول بھی وضع کردیے

0
180
عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے حوالے سے نئے اصول بھی وضع کردیے

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال کا پولیس کی جانب سے شہریوں کی غیر قانونی حراست اور جھوٹے مقدمات میں نامزد کرنے کے حوالے سے بڑا فیصلہ

عدالت نے خاتون کو غیر قانونی حراست میں رکھ کہ مقدمے میں نامزد کرنے پر ایس ایچ او اور دیگر عملے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا

عدالت نے ڈی پی او سیالکوٹ کو ایس ایچ او اور اے ایس آئی کو فوری معطل کرکہ محکمانہ کارروائی کی ہدایت کردی

عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے حوالے سے نئے اصول بھی وضع کردیے

پولیس شریک ملزمان کے ضمنی بیانات کی روشنی میں کوئی گرفتاری نہیں کرے گی فیصلہ

پولیس پابندی ہوگی کہ شریک ملزم کے ضمنی بیان سے متعلقہ شواہد حاصل کر کہ پھر کارروائی کرے فیصلہ

اگر کوئی شکایت کنندہ کوئی بیان ریکارڈ کرایے تو تفتیشی پابند ہوگا اس سے متعلقہ شواہد بھی حاصل کرے فیصلہ

علاقہ مجسٹریٹ جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کے لیے ٹکنیکل چیزوں کو چھوڑ کر ریکارڈ کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں گے فیصلہ

جسٹس اسجد جاوید گھرال نے نجمہ بی بی کی درخواست پر 10صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

درخواست گزار کے مطابق اسکی بیٹی نگینہ بی بی کو ڈسکہ پولیس نے رات کو دو بجے گھر سے اٹھایا فیصلہ

عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او مغوی کو پیش کرنے کا حکم دیا فیصلہ

ایس ایچ او نے مغوی کو پیش کرنے کی بجائے رپورٹ عدالت میں۔ پیش کی فیصلہ

رپورٹ کے مطابق مغوی ڈکیتی کے مقدمے میں مطلوبہ تھی جسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے فیصلہ

درخواست گزار کی وکیل کے مطابق ایس ایچ او نے ناجائز حراست کو کور کرنے کے لیے جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا فیصلہ

ایس ایچ او کی رپورٹ کے مطابق خاتون شریک ملزمان کے ہمراہ ڈکیتی کے مقدمے میں مطلوب تھی فیصلہ

ایس ایچ او نے بیان میں کہا کہ ضمن بیان کی روشنی میں خاتون کی گرفتاری عمل میں لائی گئی فیصلہ

متعلقہ ایس ایچ او کیس ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے فیصلہ

جس مقدمے میں گرفتاری ڈالی وہ ابتدائی طور پر تین نا معلوم افراد پر درج تھا فیصلہ

کسی بھی شخص کی آزادی اور تکریم سب سے مقدس ہے فیصلہ

قانون میں دیے گئے طریقہ کے بغیر کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا فیصلہ

موجودہ کیس میں ملزمہ کا نام کرائم رپورٹ میں شامل نہیں تھا فیصلہ

ملزمہ کو دیگر ملزمان کے نام نہاد بیان کی روشنی میں نامزد کیا گیا فیصلہ
قانون شہادت کے مطابق پولیس کے سامنے کس کے ملزم کے بیان کو شریک ملزم کے خلاف بطور ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا فیصلہ
پولیس آفیشل نے بغیر شواہد، اور بغیر سرچ وارنٹ کے آدھی رات کو مغوی کے گھر پر ریڈ کیا فیصلہ

پولیس آفیشل کا یہ اقدام انتہائی شرمناک ہے فیصلہ

عدالت نے نگینہ بی بی کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے کر فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا

Leave a reply