عالمی شخصیات کی عدم شرکت، نئی دہلی اے آئی سمٹ کو بڑا دھچکا

0
17
عالمی شخصیات کی عدم شرکت، نئی دہلی اے آئی سمٹ کو بڑا دھچکا

بھارت میں جاری پانچ روزہ ’’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘‘ کو شدید تنقید اور تنازعات کا سامنا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں منعقدہ اس عالمی کانفرنس کا مقصد ملک کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر پیش کرنا تھا، تاہم انتظامی مسائل اور حالیہ واقعات نے اس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
کانفرنس کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب بل گیٹس نے اپنا طے شدہ خطاب آخری وقت میں منسوخ کر دیا۔ ان کے بعد جینسن ہوانگ کا خطاب بھی منسوخ ہونے کی اطلاع سامنے آئی، جس سے سمٹ کے انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے۔ بل گیٹس مائیکروسافٹ کے شریک بانی ہیں جبکہ جینسن ہوانگ اینویڈیا کے سربراہ ہیں۔
سمٹ کے دوران بدانتظامی کی متعدد شکایات سامنے آئیں۔ رپورٹس کے مطابق وی آئی پی شخصیات کی آمد و رفت کے لیے سڑکوں کی بندش کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام متاثر ہوا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بعض شرکا کو بند سڑکوں کی وجہ سے طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے جبکہ ٹیکسی اور شٹل سروس کی عدم دستیابی پر بھی ناراضی کا اظہار کیا گیا۔
مزید تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب گلگوٹیاس یونیورسٹی کی جانب سے چین میں تیار کردہ روبوٹس کو مقامی ایجاد کے طور پر پیش کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا، جس پر یونیورسٹی کو سمٹ سے نکال دیا گیا۔ بعد ازاں ادارے کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی جس میں روبوٹ کو چینی ساختہ تسلیم کیا گیا۔
حزب اختلاف کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے بھی کانفرنس کے انتظامات پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جماعت کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر عالمی ماہرین کو بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو اس سے ملک کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں اس تقریب کو حکومت کا ناکام تشہیری اقدام قرار دیا گیا۔
یہ سمٹ حکومت کی جانب سے بھارت کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں کرنے کی کوشش کا حصہ تھی، تاہم ابتدائی دنوں میں سامنے آنے والی بدانتظامی اور تنازعات کے باعث یہ تقریب مثبت خبروں کے بجائے تنقید کا مرکز بن گئی ہے۔

Leave a reply