
ہاٹ لائن نیوز : وزارت مذہبی امور نے سعودی حکومت کی نئی شرائط کی روشنی میں عازمین حج کے لیے ہیلتھ پالیسی تیار کر لی ہے۔ دستاویز کے مطابق بعض امراض میں مبتلا افراد کو اس سال حج کی اجازت نہیں ہوگی۔
کینسر، دل، گردے اور سانس کی سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد حج نہیں کر سکیں گے۔ ان میں ڈائیلاسز، ہارٹ اٹیک، اور دمہ کے مریض بھی شامل ہیں۔ پھیپھڑوں کی بیماری یا مصنوعی سانس لینے والے افراد کو بھی حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جن مریضوں کو جگر کی خرابی ہو سکتی ہے وہ بھی حج پر نہیں جا سکیں گے۔
سنگین اعصابی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد پر بھی پابندی ہوگی۔ پیٹ میں پانی بھرنا، منہ سے خون آنا یا بڑی آنت جیسی بیماریاں بھی فہرست میں شامل ہیں۔ جسمانی معذوری کے حامل افراد بھی حج پر نہیں جا سکیں گے۔
کمزور یادداشت یا بھولنے کی بیماری میں مبتلا افراد کو بھی حج پر جانے سے منع کیا جائے گا۔ 7 ماہ کی حاملہ خواتین کو بھی حج پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
متعدی امراض میں مبتلا مریضوں پر بھی پابندی ہوگی۔ ٹی بی اور کینسر، انفلوئنزا، ڈینگی اور کورونا کے زیر علاج مریض بھی حج پر نہیں جا سکیں گے۔
عازمین کے لیے گردن توڑ بخار، انفلوئنزا، کورونا اور پولیو سرٹیفکیٹ جمع کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات عازمین کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں تاکہ حج کا سفر محفوظ اور کامیاب ہو سکے۔









