شیر خوار بچوں کا رونا: انسانی جسم کو متحرک کرنے والا قدرتی سگنل

0
177
شیر خوار بچوں کا رونا: انسانی جسم کو متحرک کرنے والا قدرتی سگنل

ایک نئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ شیر خوار بچوں کے رونے کی آواز صرف توجہ کھینچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ بالغ افراد کے جسم پر براہ راست اثر ڈالنے والا ایک قدرتی نظام ہے۔

یونیورسٹی آف سینٹ ایٹین کے ماہرین نے ایک مطالعے میں دریافت کیا کہ جب کوئی بچہ درد یا تکلیف میں روتا ہے، تو سننے والے بالغ افراد کے چہرے کی جلد کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ یعنی انسانی جسم، شعوری طور پر کچھ سمجھے بغیر بھی، فوراً متحرک ہو جاتا ہے۔

اس تحقیق میں 41 بالغ افراد کو 23 مختلف بچوں کے رونے کی آوازیں سنوائی گئیں، جن میں بعض آوازیں بچوں کو نہلاتے وقت اور بعض ویکسین لگنے کے دوران ریکارڈ کی گئی تھیں۔ ماہرین نے تھرمل کیمروں کی مدد سے دیکھا کہ جیسے ہی بچے کی آواز میں شدت، کھردراہٹ یا بے ترتیبی آتی ہے، سننے والے بالغ کے چہرے کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ یہ اثر مرد و خواتین دونوں میں یکساں طور پر دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے رونے میں ایک خاص قسم کی طاقتور آواز ہوتی ہے جو براہ راست انسانی دماغ اور جسم کو متحرک کر دیتی ہے۔ خاص طور پر جب بچہ درد میں ہو، تو اس کی آواز کا انداز سننے والے کے اعصابی نظام کو فوری ردعمل دینے پر مجبور کرتا ہے، چاہے وہ سننے والا خود والدین ہو یا کوئی اور بالغ فرد۔

یہ تحقیق اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی فطرت بچوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے قدرتی طور پر تیار ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہی تحقیق ڈاکٹروں اور ماہرین کو بچوں کے درد کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کا علاج مؤثر انداز میں کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ننھے بچوں کی آوازیں محض شور نہیں بلکہ ایک قدرتی الارم ہیں، جو ہمارے دل و دماغ کو فوراً بیدار کر دیتی ہیں۔

Leave a reply