
شہد صدیوں سے نہ صرف قدرتی مٹھاس کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے بلکہ گھریلو علاج میں بھی اس کی اہمیت رہی ہے۔ بہت سے خاندان شہد کے جار کئی سال تک محفوظ رکھ کر استعمال کرتے ہیں، اور اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ کیا شہد واقعی خراب ہو سکتا ہے یا صرف وقت کے ساتھ اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، خالص شہد عام طور پر خراب نہیں ہوتا، لیکن وقت کے ساتھ اس میں کچھ قدرتی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جیسے رنگ کا بدلنا یا گاڑھا (کرسٹلائز) ہونا۔ اگر شہد گاڑھا ہو جائے تو اسے دوبارہ مائع بنانے کے لیے گرم پانی میں رکھ کر ہلایا جا سکتا ہے، اور یہ طریقہ شہد کو محفوظ رکھنے کے لیے بالکل محفوظ ہے۔
جرنل آف دی رائل سوسائٹی آف میڈیسن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، شہد کی کم نمی، زیادہ چینی، اور ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی اسے جراثیم سے محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ خصوصیات شہد کو طویل عرصے تک استعمال کے قابل بناتی ہیں، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے ذخیرہ کیا جائے۔
شہد تب خراب ہو سکتا ہے جب اس میں پانی یا آلودگی شامل ہو جائے، جس سے اس میں خمیر یا پھپھوند لگ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، صاف اور خشک چمچ استعمال کریں اور جار کا ڈھکن اچھی طرح بند رکھیں تاکہ شہد محفوظ رہے۔
شہد کو ہمیشہ صاف، ہوا بند جار میں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنا چاہیے۔ زیادہ گرم یا دھوپ والی جگہیں اس کے ذائقے اور غذائیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ فریج میں رکھنے سے شہد زیادہ تیزی سے گاڑھا ہو سکتا ہے، لیکن یہ پھر بھی استعمال کے لیے محفوظ رہتا ہے۔
برانڈڈ شہد کے جار پر ایکسپائری تاریخ درج ہوتی ہے، لیکن یہ تاریخ زیادہ تر ذائقے اور کاروباری معیار کے لیے ہوتی ہے۔ صحیح طریقے سے محفوظ شدہ شہد اس تاریخ کے بعد بھی استعمال کے قابل رہتا ہے، البتہ ذائقہ ہلکا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خام شہد میں قدرتی انزائمز اور اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں، اور اگرچہ یہ زیادہ تیزی سے کرسٹلائز ہو سکتا ہے، یہ خراب نہیں ہوتا۔ اسے دوبارہ مائع بنانے کے لیے تھوڑا سا گرم کرنا کافی ہے۔
شہد ایک قدرتی طور پر محفوظ خوراک ہے جو کئی سالوں تک تازہ اور غذائیت بخش رہ سکتی ہے۔ اس کے رنگ یا گاڑھا ہونے جیسی معمولی تبدیلیاں اس کی حفاظت یا افادیت کو متاثر نہیں کرتی، اور صحیح طریقے سے ذخیرہ کرنے سے اس کی تازگی اور ذائقہ برقرار رہتا ہے۔









