شام: صدر احمد الشرع پر داعش کے حملے ناکام، واشنگٹن ملاقات سے پہلے سکیورٹی سخت

شامی صدر احمد الشرع پر داعش کے دو الگ الگ قاتلانہ حملوں کی کوششیں ناکام بنادی گئیں ہیں۔ حکام کے مطابق یہ منصوبے پچھلے چند ماہ میں بے نقاب ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند تنظیم اب بھی صدر الشرع کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے ایک منصوبہ صدر الشرع کی کسی پہلے سے اعلان شدہ سرکاری مصروفیت کے دوران عمل میں لانے کا تھا، لیکن حفاظتی وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ شامی وزارتِ اطلاعات نے حملوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم اس نے واضح کیا کہ داعش شام اور خطے کے لیے اب بھی ایک “حقیقی سکیورٹی خطرہ” ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ پچھلے دس ماہ کے دوران مختلف عبادت گاہوں اور سرکاری مقامات پر داعش کے کئی حملے ناکام بنائے گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا، “شام اپنے عوام کے تحفظ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، خواہ اس کی کوئی بھی شکل ہو۔”
یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئیں جب صدر الشرع واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی شامی صدر کا وائٹ ہاؤس کا پہلا دورہ ہوگا۔ صدر الشرع، جو گزشتہ دسمبر میں اقتدار میں آئے، اس ملاقات کو شام کی عالمی سطح پر واپسی کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں اور بین الاقوامی امداد کے لیے راستے کھولنے کی امید رکھتے ہیں۔








