سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ ملنا آئینی خلاف ورزی ہے، بیرسٹر علی ظفر

0
115
سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ ملنا آئینی خلاف ورزی ہے، بیرسٹر علی ظفر

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے سازگار فضا موجود نہیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اصولی طور پر مذاکرات کی حامی ہے، تاہم عملی طور پر کسی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کے مطابق بات چیت کے لیے ماحول بننا ضروری ہوتا ہے جو فی الحال نظر نہیں آ رہا۔
بیرسٹر علی ظفر نے آئین کے آرٹیکل 17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کا آئینی حق حاصل ہے، مگر پی ٹی آئی کو اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 17(2) میں واضح طور پر درج ہے کہ صرف وہی جماعت ممنوع ہو سکتی ہے جو ملک کی سالمیت کے خلاف ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس شق پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے بعد الیکشن ایکٹ تشکیل دیا گیا، جس کے تحت کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کے لیے محض الزامات کافی نہیں ہوتے بلکہ ٹھوس شواہد پیش کرنا لازم ہے، جو سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں ثابت کیے جاتے ہیں۔
سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے، اسی وجہ سے بات چیت کا عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا۔

Leave a reply