
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے نفاذ کے لیے کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنا قانونی نہیں ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس منیب اختر کے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ شناختی کارڈ ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر روزمرہ زندگی کے اہم امور انجام دینا ممکن نہیں۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ کسی شخص کو اس سے محروم کرنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ اگر رقم کی واپسی کے لیے شناختی کارڈ بلاک کیا جا سکتا ہے تو کیا عدالتیں بجلی یا پانی کے کنکشن منقطع کرنے کا بھی حکم دے سکتی ہیں؟ عدالت نے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا، اور جب تک قانون میں واضح اجازت نہ ہو، کوئی عدالت شہری کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کر سکتی۔
تفصیلات کے مطابق، 2016 میں ایک ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ رقم نہ دینے پر ٹرائل کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کیا، جس کے خلاف اپیل دائر کی گئی لیکن سندھ ہائی کورٹ نے بھی یہ حکم برقرار رکھا۔ اب سپریم کورٹ نے دونوں نچلی عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے ہیں۔









