سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی ہلاکت سے متعلق دعوے بے بنیاد قرار

0
20
سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی ہلاکت سے متعلق دعوے بے بنیاد قرار

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ہلاکت کے دعوے تیزی سے گردش کر رہے ہیں۔ ان دعوؤں میں کہا گیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دوران ایرانی فضائی حملے میں نیتن یاہو مارے جا چکے ہیں۔
بعض پوسٹس میں ان کے بھائی ایڈو نیتن یاہو اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے زخمی ہونے کی خبریں بھی شامل تھیں۔ ان دعوؤں کے ساتھ فضائی حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کی گئی ہیں، اور بعض میں سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رِٹر کے تبصروں کا حوالہ بھی دیا گیا۔
تاہم، اسرائیلی حکام اور میڈیا نے ان سب دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے خبروں کو “فیک نیوز” قرار دے کر مسترد کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بینجمن نیتن یاہو نے 10 مارچ کو نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ، 11 مارچ کو اشدود بندرگاہ کا معائنہ، اور 12 مارچ کو پریس کانفرنس کی۔ ان تمام مواقع کی ویڈیوز عوامی طور پر جاری کی گئی ہیں، اور وہ اپنے سرکاری فرائض جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آن لائن گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے کے بعد نیتن یاہو دکھائی دیے، مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھیں۔ حالیہ پریس کانفرنس میں چھ انگلیوں کے دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی، اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی یہ خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

Leave a reply