
مشہور ٹک ٹاک جوڑا سمیع رشید اور سحر حیات کی شادی ایک شاندار تقریب کے ساتھ ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے اور ایک بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کا رشتہ ختم ہو گیا۔ دونوں نے اپنی علیحدگی کے بارے میں الگ الگ بیانات دیے، جو سوشل میڈیا پر صارفین کے درمیان کافی وائرل ہوئے۔
سحر حیات نے دعویٰ کیا کہ انہیں سمیع رشید کی جانب سے اکثر طلاق کی دھمکیاں ملتی رہیں اور وہ ازدواجی زندگی میں زبانی اور جسمانی طور پر تکلیف میں رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمیع نے انہیں نامناسب الفاظ سے پکارا اور آٹھ ماہ کی حاملہ ہونے کے دوران بھی بدسلوکی کی۔ اس کے علاوہ سحر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شادی کے وقت حق مہر میں دھوکہ دیا گیا؛ سمیع نے کہا تھا کہ حق مہر 2 کروڑ روپے ہوگا، لیکن نکاح کے موقع پر صرف 5 لاکھ روپے لکھوائے گئے اور مائک پر 50 لاکھ کا اعلان کیا گیا۔
سحر نے بتایا کہ وہ شادی کو مضبوط رشتہ بنانے کے مقصد سے قبول کی، لیکن بعد میں یہ تجربہ ان کے لیے مشکل اور تکلیف دہ ثابت ہوا۔ سحر کی حمایت میں ان کے دوست اور ساتھی بھی سامنے آئے، جنہوں نے ان کے لیے دعاؤں اور حوصلہ افزائی کے پیغامات دیے۔
دوسری جانب، سمیع رشید نے موقف اختیار کیا کہ ان کی طلاق ایک چھوٹی بحث کے نتیجے میں ہوئی، جو ان کی بیٹی کی سالگرہ کی تقریب کے دوران سامنے آئی۔ سمیع کے مطابق، ان کے والدین بیٹی کے ساتھ تصویر لینا چاہتے تھے، لیکن سحر اس پر خوش نہیں تھیں اور انہوں نے والدین کو اسٹيج سے جانے کو کہا۔ یہی چھوٹی سی بحث بڑھ گئی اور دونوں نے علیحدگی اختیار کی۔ سمیع کے مطابق، سحر نے اسی وجہ سے خلع کے لیے درخواست دی۔
انٹرنیٹ صارفین نے دونوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے باوجود دونوں کو آگے بڑھنا چاہیے اور بعض نے مشورہ دیا کہ صلح کی کوشش کی جا سکتی تھی۔








